آسمان بُھٹہ
( مصنف اوٹاوا یونیورسٹی کینیڈامیں قانون کے طالب علم ہیں)
پاکستان کی موجودہ حکومت کی معاشی اور سیاسی حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے دو سوال کافی ہیں: کیا معیشت سنبھل رہی ہے، اور کیا ریاست پر عوام کا اعتماد بڑھ رہا ہے؟ حکومت کا مؤقف ہے کہ مشکل فیصلوں کے بعد معاشی استحکام کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اس استحکام کا بوجھ عام شہری، تنخواہ دار طبقہ اور چھوٹے کاروبار اٹھا رہے ہیں۔ دونوں باتوں میں وزن ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وقتی سنبھال کو مستقل بہتری میں بدلا جائے، اور سیاسی اختلاف کو ایسا مسئلہ نہ بننے دیا جائے جو ہر معاشی کوشش پر سایہ ڈال دے۔معاشی حکمتِ عملی کا بنیادی ستون مالی ضبط اور بیرونی ادائیگیوں کا انتظام ہے۔ حکومت ٹیکس آمدن بڑھانے، اخراجات قابو میں رکھنے، توانائی کے شعبے کے خسارے کم کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام کے تحت اصلاحات آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس راستے نے فوری بحران کے خطرے کو کم کرنے اور بیرونی مالی مدد کے دروازے کھلے رکھنے میں مدد دی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2024-25 میں توقع سے بہتر نمو دکھائی، مگر سیلاب اور بیرونی حالات نے اگلے سال کے امکانات پر دباؤ ڈالا۔ یوں استحکام کا حصول اہم ضرور ہے، لیکن یہ خود بخود خوش حالی کی ضمانت نہیں۔حکومت نے 2026-27 کے لیے 18.77 کھرب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کیا ہے اور ترقی، برآمدات اور سرمایہ کاری میں اضافے کی بات کی ہے۔
بجٹ کے اعداد بتاتے ہیں کہ حکومت ایک طرف آمدن بڑھانا چاہتی ہے، دوسری طرف نمو کو بھی تیز کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ یہ توازن کاغذ پر آسان دکھائی دیتا ہے؛ عملی طور پر مشکل ہے۔ زیادہ ٹیکس سے سرکاری خزانے کو سہارا مل سکتا ہے، مگر اگر ٹیکس کا دائرہ محدود رہے اور بار بار وہی رسمی شعبے نشانہ بنیں تو کاروباری سرگرمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس، ٹیکس نظام کو منصفانہ اور وسیع بنانا مشکل ضرور ہے مگر پائیدار راستہ یہی ہے۔اعدادوشمار کی کامیابی کا اصل پیمانہ گھر کا بجٹ ہے۔ مہنگائی میں کمی یا شرحِ سود میں نرمی معاشی خبروں میں اچھی لگتی ہے، لیکن شہری کے لیے سوال یہ ہے کہ بجلی، گیس، کرایہ، دواؤں اور خوراک کے بل قابلِ برداشت ہوئے یا نہیں۔ پچھلے برسوں میں قیمتوں کے تیز اضافے نے گھریلو آمدن کو کمزور کیا ہے۔ اگر موجودہ حکمتِ عملی کا فائدہ صرف مالیاتی اشاریوں اور بڑے کاروباری اداروں تک محدود رہے تو عوام اسے اپنی کامیابی نہیں سمجھیں گے۔ حکومت کو سماجی تحفظ کے پروگرام بہتر بنانے، کم آمدن والے گھرانوں کے لیے ہدفی مدد دینے، اور صحت و تعلیم کے اخراجات کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ امداد ایسی ہو جو ضرورت مند تک پہنچے، نہ کہ عمومی سبسڈی کی صورت میں وسائل کا بڑا حصہ ضائع کر دے۔معاشی پالیسی کا دوسرا اہم امتحان روزگار اور پیداوار ہے۔ قرض اور درآمدات پر چلنے والی معیشت کو برآمدات، ہنرمندی اور مقامی صنعت پر کھڑا کرنا ہوگا۔
زراعت میں پیداوار بڑھانے کے لیے پانی کے مؤثر استعمال، بہتر بیج، ذخیرہ گاہوں اور منڈی تک رسائی پر سرمایہ کاری درکار ہے۔ صنعت کو توانائی کی قابلِ پیش گوئی قیمت، مستقل ٹیکس پالیسی اور کاروبار شروع کرنے کے آسان طریقے چاہییں۔ نوجوانوں کو صرف سرکاری نوکری کی امید دلانا کافی نہیں؛ انہیں ایسی تربیت اور ڈیجیٹل سہولتیں دینا ہوں گی جو نجی شعبے میں کام اور کاروبار کے مواقع پیدا کریں۔ اگر بجٹ ترقی کا وعدہ کرتا ہے تو اس وعدے کو منصوبوں کی تکمیل، بہتر اسکولوں اور حقیقی روزگار میں دکھائی دینا چاہیے۔سیاسی محاذ پر حکومت کی حکمتِ عملی مفاہمت اور کنٹرول کے درمیان جھولتی محسوس ہوتی ہے۔ حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان بات چیت کے ادوار ہوئے، مگر اکتوبر میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد احتجاج اور اسلام آباد کی طرف مارچ کی صورتِ حال پیدا ہوئی۔ پھر 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کر کے تحریکِ انصاف کی صوبائی حکومت معطل کر دی گئی۔ وفاقی حکومت نے اسے امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کی ضرورت قرار دیا، جبکہ مخالفین اسے سیاسی تصادم کا نیا مرحلہ سمجھتے ہیں۔اس فیصلے کے آئینی جواز اور انتظامی ضرورت پر بحث اپنی جگہ، مگر اس کا سیاسی اثر واضح ہے: کشیدگی بڑھی ہے اور وفاق و صوبے کے درمیان اعتماد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔
دہشت گردی اور سرحدی سلامتی حقیقی مسائل ہیں؛ ان پر مؤثر کارروائی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن سلامتی کے نام پر سیاسی نمائندگی کو محدود کرنے کا تاثر بھی خطرناک ہے۔ ایسے وقت میں پارلیمان، عدالتوں، منتخب صوبائی اداروں اور سیاسی جماعتوں کو اپنا کردار ادا کرنے دینا ریاستی اعتماد کے لیے ضروری ہے۔ اختلاف کرنے والی جماعتوں کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا کمزوری نہیں، سیاسی بلوغت ہے۔حکومت کی سیاسی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جائے گی کہ اس نے احتجاج کو کتنی جلد قابو کیا، بلکہ اس سے بھی کہ اختلاف کو بات چیت میں کتنی جگہ دی۔ سڑکیں بند کرنا، گرفتاریاں، جوابی جلسے اور سخت بیانات وقتی دباؤ پیدا کر سکتے ہیں؛ مگر یہ طریقے عوام کے سیاسی سوالات کا جواب نہیں دیتے۔ اسی طرح حزبِ اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ احتجاج کو پُرامن رکھے، واضح مطالبات پیش کرے اور قومی بحرانوں کو محض اقتدار کی کشمکش میں نہ بدلے۔ انتخابی و پارلیمانی عمل پر اعتماد بحال کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کے مفاد میں ہے۔معاشی اور سیاسی حکمتِ عملی ایک دوسرے سے الگ نہیں۔ سیاسی بے یقینی سرمایہ کار کو محتاط کرتی ہے؛ احتجاج اور انتظامی تعطل کاروبار اور روزگار کو متاثر کرتے ہیں۔
دوسری طرف، مہنگائی اور بے روزگاری عوامی بے چینی بڑھاتی ہیں، جس سے سیاست مزید تلخ ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومت کو صرف مالیاتی نظم پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔ اسے شفاف ٹیکس پالیسی، توانائی اصلاحات، ہدفی سماجی مدد اور برآمدی شعبوں کے لیے مستقل قواعد کے ساتھ سیاسی مکالمے کو بھی اپنا معاشی اثاثہ سمجھنا ہوگا۔ ہر بحران کے جواب میں ہنگامی انتظام اختیار کرنے سے ریاستی ادارے مضبوط نہیں ہوتے؛ مضبوطی تب آتی ہے جب فیصلے قانون، جواب دہی اور عوامی رضامندی کے ساتھ کیے جائیں۔آج پاکستان کو نہ صرف معاشی نظم کی ضرورت ہے، نہ صرف سیاسی استحکام کی—اسے دونوں ایک ساتھ درکار ہیں۔ حکومت نے مالیاتی استحکام اور ترقی کے اہداف رکھے ہیں؛ اب اسے دکھانا ہوگا کہ ان کا فائدہ عام شہری تک کیسے پہنچے گا۔ اپوزیشن کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اختلاف کے باوجود جمہوری راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ اگر حکومت مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے، روزگار بڑھانے اور سیاسی مخالفین سے بامعنی بات چیت کرنے میں کامیاب ہوئی تو موجودہ سخت فیصلے قابلِ دفاع بن سکتے ہیں۔ اگر معیشت کے اعداد بہتر ہوں مگر عوام کی زندگی مشکل رہے، اور سیاسی اختلاف کا جواب مزید تصادم ہو، تو استحکام محض سرکاری بیان رہ جائے گا۔ ملک کو اسی فرق کا فیصلہ کرنا ہے۔






