ملک سندر شعیب ایڈووکیٹ
کسی منتخب وزیراعلیٰ کو ”حفاظتی حراست“ میں رکھنے کا تصور سیاسی بحث میں جتنا سادہ دکھائی دیتا ہے، آئینی اور قانونی طور پر اتنا ہی پیچیدہ ہے۔ اگر صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال خراب ہو، وفاق اور صوبائی حکومت میں شدید اختلاف ہو یا کسی احتجاج کے دوران تشدد کا خدشہ ہو تو کیا حکومت منتخب وزیراعلیٰ کو حراست میں لے سکتی ہے؟ کیا گورنر راج یا ایمرجنسی اس اقدام کا جواز بن سکتے ہیں؟ ان سوالات کا جواب کسی سیاسی جماعت کی پسند یا ناپسند سے نہیں، آئین اور قانون سے ملنا چاہیے۔سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ پاکستان کے آئین میں ”حفاظتی حراست“ کے نام سے کوئی ایسا خصوصی اختیار موجود نہیں جو منتخب وزیراعلیٰ پر خود بخود لاگو ہو جائے۔ کسی شخص کو حراست میں لینے کے لیے قانون میں متعین بنیاد اور طریق? کار درکار ہوتا ہے۔ عہدہ کسی کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا، لیکن کسی عہدے دار کو سیاسی اختلاف یا انتظامی سہولت کے نام پر قانون سے ہٹ کر حراست میں رکھنا بھی جائز نہیں ہو سکتا۔آئین کا آرٹیکل 9 شخصی آزادی اور جان کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10 گرفتاری اور حراست کے وقت قانونی تحفظات بیان کرتا ہے۔ عام حالات میں گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجہ بتانا اور اسے مقررہ مدت کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا لازم ہے۔ احتیاطی حراست کے قوانین میں الگ شرائط اور طریقہ کار موجود ہو سکتے ہیں، مگر انہیں بھی قانون کے مطابق استعمال کرنا ضروری ہے۔ کسی وزیراعلیٰ کی حراست کو محض ”احتیاط“، ”حفاظت“ یا ”امن و امان“ کا نام دینے سے وہ قانونی نہیں ہو جاتی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ وزیراعلیٰ کو کسی فوجداری مقدمے میں گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر قابلِ اطلاق قانون کے تحت ان کے خلاف مقدمہ ہو، گرفتاری کی قانونی بنیاد موجود ہو اور مجاز ادارہ مقررہ طریقہ کار اختیار کرے تو ان کے عہدے سے قطع نظر قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔ البتہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ الزام اور شواہد حقیقی ہوں، گرفتاری قانونی اختیار کے تحت کی گئی ہو اور کارروائی کا مقصد انصاف ہو۔ اگر حراست کا اصل مقصد کسی سیاسی رہنما کو فیصلے کرنے، عوام سے رابطے یا اپنے آئینی فرائض کی انجام دہی سے روکنا ہو تو اس کی قانونی حیثیت پر سنگین سوال اٹھیں گے۔ایمرجنسی اور گورنر راج کے اختیارات الگ نوعیت رکھتے ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 232 بعض غیر معمولی حالات مثلاً جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسے اندرونی خلفشارمیں ایمرجنسی کے اعلان کی اجازت دیتا ہے جن سے صوبے کی سلامتی کو سنگین خطرہ ہو۔ یہ اختیار معمول کے سیاسی اختلاف، حکومت پر تنقید یا احتجاج کو دبانے کے لیے نہیں بنایا گیا۔
اس کا استعمال آئینی تقاضوں اور پارلیمانی نگرانی سے مشروط ہے۔اسی طرح آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج اس وقت زیرِ غور آ سکتا ہے جب صدر اس نتیجے پر پہنچیں کہ کسی صوبے کا آئینی نظام معمول کے مطابق نہیں چلایا جا سکتا۔ ایسی صورت میں صوبے کے انتظامی اختیارات کے بارے میں آئین کے طے کردہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ مگر گورنر راج کا مطلب یہ نہیں کہ وفاقی حکومت کو ہر شہری، ہر منتخب رکن یا وزیراعلیٰ کو بغیر قانونی بنیاد حراست میں لینے کا کھلا اختیار مل جاتا ہے۔ کسی انتظامی بحران کا حل اور کسی شخص کی گرفتاری دو الگ قانونی سوال ہیں؛ ایک کا جواب دوسرے کا خودکار جواز نہیں بن سکتا۔اگر وزیراعلیٰ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ امن و امان کے لیے خطرہ ہیں، تو متعلقہ حکام کو بتانا ہوگا کہ خطرے کی نوعیت کیا ہے، اس کا قابلِ اعتماد ثبوت کیا ہے اور حراست کیوں ضروری ہے۔ کیا معاملہ کسی مخصوص فوجداری جرم سے متعلق ہے؟ کیا عام پولیسنگ یا عدالتی حکم سے خطرہ روکا جا سکتا ہے؟ کیا گرفتاری کسی قانون کے تحت مجاز افسر نے کی؟ ان سوالات کے جواب ریکارڈ پر ہونے چاہییں۔ عمومی الزام یا سیاسی بیان قانونی بنیاد کا متبادل نہیں بن سکتا۔
احتیاطی حراست کے قوانین میں ریاست کو بعض حالات میں کسی شخص کو کسی متوقع خطرے کی روک تھام کے لیے محدود مدت تک حراست میں رکھنے کی اجازت ہو سکتی ہے۔ مگر یہ اختیار بھی غیر معینہ نہیں، نہ ہی کسی منتخب عہدے دار کے خلاف اسے من مانے انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ حراست کے حکم میں قانونی بنیاد، وجوہات، نظرثانی اور متعلقہ فورم تک رسائی جیسے تحفظات اہم ہوتے ہیں۔ عدالتیں یہ دیکھ سکتی ہیں کہ اختیار درست طور پر استعمال ہوا، قانونی تقاضے پورے ہوئے اور حراست بدنیتی یا غیر متعلقہ مقصد کے لیے تو نہیں۔وزیراعلیٰ کی حراست کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے صوبائی کابینہ، اسمبلی، انتظامیہ اور لاکھوں ووٹروں کے مینڈیٹ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس لیے اگر گرفتاری ناگزیر ہو تو حکومت کو یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ صوبے کے روزمرہ امور آئینی طریقے سے چلتے رہیں، منتخب اسمبلی اور کابینہ کے اختیارات کی حدود واضح رہیں اور گرفتاری کو صوبائی حکومت ختم کرنے کا غیر اعلانیہ راستہ نہ بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ کی ذاتی آزادی کا سوال اور صوبے کے آئینی نظام کا سوال ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، مگر دونوں کے لیے الگ قانونی بنیاد درکار ہے۔پارلیمان اور عدلیہ کی نگرانی اس لیے اہم ہے کہ ہنگامی اختیارات کا استعمال اکثر سیاسی دباؤ کے ماحول میں ہوتا ہے۔ پارلیمان کو ایمرجنسی یا گورنر راج کی وجوہات اور مدت پر سنجیدہ بحث کرنی چاہیے۔ عدلیہ کو حراست کے حکم اور اس کے طریق? کار کی قانونی جانچ کا اختیار حاصل ہے۔ کسی منتخب رہنما کو حراست میں رکھنا انتظامیہ کا یک طرفہ فیصلہ نہیں ہونا چاہیے؛ اسے فوری اور مؤثر عدالتی جانچ کے سامنے پیش کیا جا سکے۔سیاسی جماعتوں کے لیے بھی یہ اصول یکساں ہونا چاہیے۔ آج اگر کسی مخالف وزیراعلیٰ کی حراست کو معمول کا حکومتی قدم مان لیا جائے تو کل یہی مثال کسی دوسری جماعت کے منتخب رہنما کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے۔
اس لیے معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ گرفتار ہونے والا ہمارا ہے یا مخالف۔ معیار یہ ہو کہ قانون کی بنیاد موجود ہے یا نہیں، طریقہ کار پورا ہوا یا نہیں اور عدالتی نگرانی دستیاب ہے یا نہیں۔آخرکار، گورنر راج یا ایمرجنسی وزیراعلیٰ کی خودکار حفاظتی حراست کا جواز نہیں بنتے۔ کسی منتخب وزیراعلیٰ کو حراست میں صرف اسی صورت لیا جا سکتا ہے جب اس کے لیے واضح قانونی اختیار، قابلِ جانچ بنیاد اور مقررہ طریقہ کار موجود ہو۔ امن و امان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر یہ ذمہ داری آئین کے اندر رہ کر ادا کی جانی چاہیے۔ قانون کی حکمرانی کا اصل امتحان یہی ہے کہ طاقت رکھنے والوں پر بھی وہی ضابطے لاگو ہوں جو عام شہری پر ہوتے ہیں اور کسی کی آزادی صرف اسی وقت محدود ہو جب قانون اس کی اجازت دے۔






