پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن: بیرسٹرگوہربلا مقابلہ چیئرمین منتخب

0
158

پشاور(طلوع نیوز) پاکستان تحریک انصاف انٹرا پارٹی انتخابات میں بیرسٹر گوہرعلی خان بلامقابلہ چیئرمین پی ٹی آئی منتخب ہوگئے ۔

الیکشن کمیشن کی ہدایت پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آج انٹرا پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا۔

انتخابات کے بعد چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں جبکہ سینٹرل سے بیرسٹر گوہر چیئرمین منتخب ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان سے منیراحمد بلوچ صدر منتخب ہو ئے ہیں جبکہ پنجاب سے یاسمین راشد صدر پی ٹی آئی منتخب ہوئی ہیں۔

حلیم عادل شیخ پی ٹی آئی سندھ کے صدر جبکہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے لیے علی امین گنڈا پور کو صدر منتخب کیا گیا ہے ۔

نیاز اللہ نیازی نے بتایا کہ مرکزی سیکرٹری جنرل عمر ایوب خان بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر کاکہنا تھا کہ اکبر ایس بابر کے اعتراض کو مسترد کرتے ہیں ۔

بعدازاں پی ٹی آئی نو منتخب چیئرمین بیرسٹر گوہرخان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کا کسی سے کوئی جھگڑا نہ ہے اور نہ کریں گے، کیسز میں ہم 300 مرتبہ عدالت پیش ہوئے، فارن فنڈگ صرف پی ٹی آئی کی دیکھی گئی۔

بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہم نے ملک کو آگے لیکر جانا ہے ، جو پارٹی سربراہ کا فیصلہ ہوتا ہمارا بھی وہی ہوتا ہے، پی ٹی آئی چیئرمین کا منصب امانت کے طور پر ہوگا۔

پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے لیے سکیورٹی دینے کا اعلان کیا گیا تھا اور ایس ایس پی آپریشنز نے خود سکیورٹی کی نگرانی کی۔

پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر کی درخواست کے بعد الیکشن کمیشن نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور آئی جی خیبر پختونخوا کو سکیورٹی انتظامات کی ہدایت کی تھی۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز، پی ٹی آئی نے اعلان کیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایت کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن 2 دسمبر کو کرائے جائیں گے کیونکہ اس سے قبل الیکشن کمیشن نے تحریک انصاف کو اپنے انتخابی نشان کے طور پر بلے کو برقرار رکھنے کے لیے 20 دن کے اندر اندر پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔

نو منتخب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی زندگی پر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع بونیر سے ہے اور وہ تحریک انصاف سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کا حصہ رہے ہیں اور 2008 کے عام انتخابات میں تیر کے نشان پر انتخابات میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔

اس کے بعد وہ طویل عرصہ سیاسی میدان سے دور رہے اور سیاسی جماعتوں کے مقدمات میں وکیل کے طور پر عدالتوں میں پیش ہوتے رہے۔

بیرسٹر گوہر علی خان نے برطانیہ کی والورہیپمٹن یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور واشنگٹن سکول آف لاء سے ایل ایل ایم کر رکھا ہے جبکہ وہ کئی عرصے تک اعتزاز احسن اینڈ ایسوسی ایٹس کے ساتھ وابسطہ رہے اور اعتزاز احسن کی براہ راست نگرانی میں وکالت کرتے رہے۔

اعتزاز احسن کے ساتھ بیرسٹر گوہر 2007 میں وکلا تحریک میں بھی پیش پیش تھے، افتخار محمد چودھری کی بحالی کے سلسلے میں بھی مقدمہ لڑنے میں وہ اعتزاز احسن کے معاون رہے، تاہم وہ سیاست میں زیادہ فعال نہیں رہے۔

بیرسٹر گوہر خان گزشتہ ایک سال سے سابق وزیراعظم کی قانونی ٹیم کے اہم رکن ہیں جن کے ذمے تمام قانونی امور کو سنبھالنا ہے اور وہ پارٹی کے قانونی امور پر فوکل پرسن بھی ہیں۔

ابتدائی طور پر بیرسٹر گوہر تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس اور سابق چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کے مقدمات کی پیروی کرتے تھے مگر پھر جب تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمات کی بھرمار ہوئی تو ایسے میں جہاں ان کے چیلنجز میں اضافہ ہوا وہیں پارٹی میں ان کی اہمیت بھی کئی گنا بڑھ گئی۔

واضح رہے کہ بیرسٹر گوہر علی خان نے 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی سے انتخابات میں حصہ بھی لیا تھا اور بہت کم ووٹوں سے ہار گئے تھے۔

بیرسٹر گوہر کے مطابق 2008 میں شکست کے بعد پھر انہوں نے خاموشی سے ہی اس جماعت سے دوری اختیار کر لی اور 2008 میں معمولی مارجن سے شکست کے بعد ان کے پاس دو آپشن تھے، یا سیاسی طور پر جدوجہد جاری رکھتے اور انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے یا پھر کارپوریٹ اور آئینی امور پر وکالت کر کے لوگوں کی خدمت کرتے، ان کے مطابق انہوں نے دوسرے آپشن کو چنا اور پھر وکالت میں مگن ہو گئے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا