پی ٹی آئی پر پابندی:اے این پی،پیپلزپارٹی کی مخالفت

0
201

پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے سے متعلق وفاقی حکومت کے اعلان کردہ فیصلے کی مخالفت کردی۔

ذرائع کے مطابق سینئر رہنماوں نے اپنی قیادت کو کھل کر حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرنے کی تجویز دی اور کہا کہ وہ حکومت کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتے۔

پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی جانب سے اس حوالے سے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے بیان پر تعجب کا اظہار کیا اور کہ جماعت کو معاملے پر اعتماد میں لینے کے حوالے سے انہیں علم نہیں ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کسی طور پر درست نہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کا مطلب یہ نہیں کہ کسی پارٹی کو ختم ہی کر دیا جائے سیاسی جماعتوں کو جمہوری طرزعمل اپنانا چاہئے، آرٹیکل 6 سابق جنرل مشرف اور جنرل ضیاء الحق پر لگنا تھا جو نہیں لگایا گیا، سیاسی پارٹیوں کے رہنما اور کارکن آرٹیکل چھ کے زمرے میں نہیں آتے۔

حسن مرتضیٰ نے مزید کہا کہ پابندیاں لگا کر کسی سیاسی جماعت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، ملکی مسائل کا واحد حل پابندیاں نہیں ڈائیلاگ ہیں۔

حکومتی فیصلے پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان انجینئر احسان اللہ خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کا پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا فیصلہ بچگانہ اور غیر دانشمندانہ ہے،سیاسی جماعتوں کا راستہ پابندیوں اور رکاوٹوں سے بند نہیں کیا جاسکتا۔

تحریک انصاف سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن حکومت کا یہ اقدام بیوقوفی ہوگی،مسلم لیگ وہی سب کچھ دہرا رہی ہےجو 2018 اور 2022 کے بیچ پی ٹی آئی کررہی تھی۔

مسلم لیگ ن جس ناؤ کی سواری کررہی ہے، اسکا مقدر ڈوبنے کے سوا کچھ نہیں،سیاست کے نام پر یہ بدنما ڈرامے اور میوزیکل چیئر شوز مزید ہر صورت بند کرنے ہوں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا