فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ شہید کے بیٹے عبدالسلام ہنیہ نے کہا ہے کہ میرے والد کو جس چیز کی خواہش تھی وہ انہوں نے حاصل کرلی۔
ایران میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ان کے بیٹے نے کہاکہ قیادت کے قتل سے اسرائیل کے خلاف ہماری مزاحمت ختم نہیں ہوگی، ہم آزادی کے حصول تک مزاحمت جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہاکہ ہم اسرائیلی قبضے کے خلاف ایک اور انقلاب کے لیے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔
عبدالسلام ہنیہ نے کہاکہ والد کی شہادت پر سر فخر سے بلند ہے، انہوں نے اس سفر میں ہر روز اپنے آپ کو شہید تصور کیا۔
واضح رہے کہ حماس کے سیاسی شعبہ کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تہران میں اسرائیلی حملے میں شہید ہوگئے۔
ایران نے اپنے ملک میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر کہا ہے کہ اسرائیل سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب اور حماس نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے تاحال اس کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔
خیال رہے کہ اسرائیل متعدد بار حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ سمیت ٹاپ لیڈر شپ کو دنیا کے کسی بھی خطے میں نشانہ بناکر قتل کرنے کی دھمکی دے جا چکا ہے۔
تاہم اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ مقامی وقت کے مطابق رات 2 بجے تہران کے قلب میں اُس مقام پر میزائل داغا گیا تھا جہاں اسماعیل ہنیہ اپنے محافظ سمیت ٹھہرے ہوئے تھے۔
حماس نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ان کی شہادت کی تصدیق کر دی ہے، انہیں ایران میں ان کی قیام گاہ پر نشانہ بنایا گیا، حملے میں ان کا محافظ بھی جاں بحق ہو گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق انہیں یہودی ایجنٹوں نے نشانہ بنایا، ان پر حملے کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اسماعیل ہانیہ پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات جلد سامنے لائی جائیں گی۔
اسماعیل ہانیہ 1962 میں غزہ کے شہر کے مغرب میں شطی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے، غزہ جنگ کے دوران اسماعیل ہانیہ کے خاندان کے کافی افراد شہید ہو چکے ہیں۔






