لاہور میں ایک نجی پارٹی کے دوران مبینہ فحاشی کے الزامات کے بعد پنجاب پولیس نے متعدد خواجہ سراؤں کو گرفتار کر لیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، یکم اگست کی پارٹی کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد گرفتاریوں کا حکم دیا گیا، جس میں تقریباً 50-60 افراد شامل تھے۔
ڈی آئی جی لاہور فیصل کامران نے کہا کہ کسی پارٹی یا فوٹو شوٹ کی آڑ میں فحاشی کو فروغ دینا سنگین جرم ہے اور ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ حکومت نے صوبے میں غیر اخلاقی سرگرمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن بڑھانے کا بھی اعلان کیا۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس قانون کے ممکنہ غلط استعمال پر تشویش ظاہر کی، جبکہ کچھ نے ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد اصل پارٹی اور افراد سے تحریک کے تعلق کے تاثر کی تردید کی۔





