لاہور: لاہور کی سپیشل سینٹرل عدالت نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمے کی سماعت کے دوران انہیں ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے پرویز الہٰی کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
سپیشل سینٹرل عدالت کے جج محمد عارف خان نیازی نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت پرویز الہٰی کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ بیمار ہیں اور ڈاکٹرز نے انہیں آرام کا مشورہ دیا ہے، اس لیے عدالت ان کی ایک روزہ حاضری سے استثنیٰ دے۔
تاہم عدالت نے وکیل کے موقف کو مسترد کرتے ہوئے پرویز الہٰی کے لیے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانونی تقاضے سب پر برابر لاگو ہوتے ہیں اور حاضری کی استثنیٰ کی درخواست تسلیم نہیں کی جا سکتی۔
یاد رہے کہ ایف آئی اے لاہور نے پرویز الہٰی کے خلاف نامکمل چالان جمع کر رکھا ہے، جس میں ان کے دیگر معاونین اور متعلقہ افراد کے کردار کی تحقیقات شامل ہیں۔ اس مقدمے میں مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی اور وارنٹ گرفتاری کے اجراء کے بعد قانونی کارروائی کے اگلے مراحل شروع ہو جائیں گے۔
اس معاملے پر سیاسی حلقوں اور میڈیا میں بھی تبصرے جاری ہیں، جہاں سابق وزیراعلیٰ کی صحت اور قانونی تقاضوں کے درمیان توازن پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق تمام قانونی کارروائی شفاف انداز میں کی جا رہی ہے اور کسی بھی فرد کے لیے قانون سے استثنیٰ نہیں ہوگا۔






