اسلام آباد: این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے کہا ہے کہ ملک اس وقت مون سون کے ساتویں سپیل سے گزر رہا ہے اور آئندہ مزید دو سپیل متوقع ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے سے گلگت بلتستان اور کشمیر کو شدید خطرہ ہے جبکہ اسلام آباد اور راولپنڈی بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں کلاؤڈ برسٹ نے مون سون کی شدت بڑھا دی ہے، اور 2022 کی سیلابی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اب تک تقریباً 670 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 80 سے 90 افراد لاپتہ ہیں۔ آئندہ دو سپیل 10 ستمبر تک متوقع ہیں، جس کے بعد مکمل ڈیٹا دستیاب ہوگا۔
حکومت افواج پاکستان اور دیگر اداروں کے تعاون سے ریسکیو اور ریلیف آپریشنز جاری ہیں۔ وزیراعظم کی ہدایت پر 400 سے زائد ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جبکہ بونیر اور دیگر متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کے قافلے روانہ کیے جا رہے ہیں تاکہ متاثرہ افراد تک راشن اور ضروری امداد بروقت پہنچائی جا سکے۔ این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ لوگوں کی حفاظت اور ریلیف فراہم کرنا اولین ترجیح ہے اور آرمی کے انجینئرز ہر ممکن مدد فراہم کر رہے ہیں۔






