کراچی میں بارش کے باعث حادثات، اموات کی تعداد 15 ہوگئی

0
132

کراچی: شہر قائد میں گزشتہ روز سے وقفے وقفے سے ہونے والی بارش نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا، مختلف حادثات میں خاتون اور بچے سمیت 15 افراد جاں بحق ہوگئے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق گلشن حدید میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 178 ملی میٹر جبکہ یونیورسٹی روڈ پر 145 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ شہر کی اہم شاہراہوں سے برساتی پانی کی نکاسی کا کام تاحال جاری ہے تاہم کارساز، ملیر ہالٹ، آرام باغ، لیاقت آباد، یونیورسٹی روڈ اور سندھ ہائی کورٹ کے اطراف اب بھی پانی جمع ہے۔

پولیس کے مطابق پی ای سی ایچ ایس میں مکان میں جمع پانی کے باعث ایک 70 سالہ معذور شخص جاں بحق ہوا جو گھر میں اکیلا رہتا تھا۔

شدید بارش کے باعث کے الیکٹرک کے 240 فیڈرز بند ہیں، جس کے نتیجے میں گلستان جوہر، نارتھ ناظم آباد، ملیر، کورنگی، اورنگی ٹاؤن، سرجانی، پی ای سی ایچ ایس، گلشن اقبال اور ڈیفنس سمیت مختلف علاقوں میں 20 گھنٹوں سے بجلی کی فراہمی معطل ہے۔

دوسری جانب ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا، جناح انٹرنیشنل سے کئی اندرون و بیرون ملک پروازیں منسوخ کر دی گئیں جبکہ عملے کی بڑی تعداد ڈیوٹی پر نہ پہنچ سکی۔

بارشوں کے بعد کی صورتحال کے پیش نظر چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے کراچی کی عدالتوں میں عام تعطیل کا اعلان کیا، جس کے باعث سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتیں بند رہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون ہوائیں خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے جنوبی حصوں پر اثر انداز ہیں، جس کے باعث آج اور کل مزید گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے، کہیں کہیں موسلادھار بارش بھی ہو سکتی ہے۔ محکمہ نے اربن فلڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خدشے سے خبردار کیا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا