برطانیہ ، ایک لاکھ 11 ہزار پناہ کی درخواستیں پاکستانی، شامل

0
160

نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے لیبر پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے ہی سال میں ریکارڈ ایک لاکھ 11 ہزار پناہ کی درخواستیں دائر کی گئیں۔وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ جون تک ایک لاکھ 11 ہزار 84 افراد نے سیاسی پناہ حاصل کی جو گزشتہ 12 ماہ کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ٹونی بلیئر کی حکومت کے تحت ‘پناہ کے بحران’ کے دوران 2002 میں یہ تعداد ایک لاکھ 3 ہزار کی بلند ترین سطح سے تجاوز کر گئی تھی ایک اور بڑی پیش رفت میں برطانیہ میں قیام کے لیے اپنے ویزوں میں توسیع کرنے والے غیر ملکی شہریوں کی تعداد پہلی بار 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے

۔پناہ کی کل درخواستوں میں سے چار میں سے ایک یعنی 43,600 درخواستیں چھوٹی کشتیوں سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی جانب سے کی گئی تھیں۔باقی لوگ خفیہ طور پر یہاں آئے، جیسے لاری میں سوار ہو کر، جو دعووں کا ۱۱ فیصد ہے، یا قانونی طور پر یہاں آئے جیسے ویزا پر اور پھر پناہ گزین ہونے کا دعویٰ کیا۔

مجموعی طور پر پناہ کے دعویداروں میں سرفہرست پانچ قومیتیں پاکستانی، افغان، ایرانی، اریٹیریا اور بنگلہ دیشی تھیں۔تاہم اس سال کے پہلے چھ ماہ میں اریٹیریا کے باشندے سب سے بڑی قومیت کے حامل ہیں جن کی تعداد 3,543 ہے جبکہ اس کے بعد 2,318 افغان باشندے تیسرے نمبر پر ہیں۔یہ اعداد و شمار اس وقت کے پہلے سال کا احاطہ کرتے ہیں جب وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے پچھلی حکومت کے روانڈا میں پناہ گزینوں کے معاہدے کو منسوخ کر دیا تھا،

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا