نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ آوارہ کتوں کو ویکسین اور نس بندی کے بعد واپس مقامی علاقوں میں چھوڑا جائے، صرف ریبیز کے شکار یا جارحانہ کتوں کو شیلٹرز میں رکھا جائے گا۔ عدالت نے عوامی مقامات پر کھانا کھلانے پر پابندی لگاتے ہوئے مخصوص مقامات مختص کرنے کا حکم بھی دیا۔
11 اگست کو دو رکنی بینچ نے دہلی اور مضافات میں ریبیز کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر تمام آوارہ کتوں کو شیلٹرز میں منتقل کرنے کا حکم دیا تھا اور 8 ہفتوں میں پناہ گاہیں بنانے کی ہدایت دی تھی۔ تاہم موجودہ قوانین کے مطابق غیر جارحانہ کتوں کو نس بندی اور علاج کے بعد واپس چھوڑنا ضروری تھا، جس پر جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے احتجاج کیا تھا۔
تین رکنی بینچ کے تازہ فیصلے کے بعد سابقہ حکم معطل کر دیا گیا ہے اور عدالت نے واضح کیا کہ غیر متاثرہ اور غیر جارحانہ کتوں کو ویکسینیشن اور نس بندی کے بعد واپس ان کے مقامی علاقوں میں چھوڑا جائے، تاکہ موجودہ قوانین اور جانوروں کے حقوق کے تحفظ میں توازن قائم رہے۔






