سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا ہے کہ گمشدگی کے کیس سب سے زیادہ مشکل ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ سچ بولنا مشکل ہے اور سچ بولنے والے سے سب سے زیادہ نفرت کی جاتی ہے۔ انہوں نے وکلاء تحریک کے کردار کو جمہوریت اور آئین کی بحالی میں اہم قرار دیا اور کہا کہ اس تحریک نے شہریوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف راغب کیا۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے مزید کہا کہ ریاست کا کام اپنے بچوں کی حفاظت کرنا ہے اور مسنگ پرسنز کیس میں کسی سرکاری افسر کے ساتھ نرمی نہیں دکھائی جائے گی۔ اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکار کا کام احتساب اور سب کی حفاظت کرنا ہے، اور آئینی عدالت کو 24 گھنٹے کھلا رہنا چاہیے۔






