سپریم کورٹ: 12 سال سے قید والد کو بیٹی سے زیادتی کے الزام میں بری کر دیا

0
177

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ اور ٹرائل کورٹ کی جانب سے سنائی گئی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 12 سال سے قید والد کو بری کر دیا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اور 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس علی باقر نجفی نے تحریر کیا۔

فیصلے کے مطابق متاثرہ بچی کا بیان ریکارڈ کرتے وقت اس کی ذہنی پختگی کا ٹیسٹ نہیں لیا گیا، بیان میں تضادات موجود تھے اور میڈیکل رپورٹ بھی متضاد ثابت ہوئی۔ مدعیہ اور ماموں عینی شاہد نہیں تھے اور خاندان میں جائیداد و گھریلو تنازعات بھی ریکارڈ پر آئے۔ ان شواہد کو غیر معتبر قرار دیتے ہوئے عدالت نے ملزم کو بری کیا اور حکم دیا کہ اگر وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو تو فوری رہا کیا جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا