نئی دہلی: امریکا کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد تجارتی ٹیرف عائد ہونے کے بعد بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر جا پہنچا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق کاروباری روز کے اختتام پر بھارتی روپیہ 88.19 فی ڈالر پر بند ہوا، جبکہ دورانِ تجارت روپے کی قدر مزید گر کر 88.30 تک گئی، جس پر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھارتی ریزرو بینک نے مداخلت کی۔
ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات معاشی نمو کو متاثر کریں گے اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کو مزید کمزور کر دیں گے۔ حالیہ اقدام کے تحت امریکا نے بھارتی برآمدات پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا ہے جس کے بعد بھارت پر مجموعی طور پر 50 فیصد تجارتی ٹیرف لاگو ہو چکا ہے۔ معاشی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر یہ محصولات ایک سال تک برقرار رہے تو بھارت کی جی ڈی پی میں 60 سے 80 بیسس پوائنٹس تک کمی آسکتی ہے جو پہلے سے سست رفتار معیشت پر مزید دباؤ ڈالے گی۔






