کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے اور بہت خطرناک ہے، اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے ملک گیر پالیسی بنائی جائے گی۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کے مطابق 8 سے 11 لاکھ کیوسک پانی سندھ میں داخل ہو سکتا ہے۔ 9 لاکھ کیوسک سے اوپر پانی کو سپر فلڈ کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے، اور انسانی جانوں کو بچانا سب سے پہلے ترجیح ہے، اس کے بعد مال مویشی کی حفاظت کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گڈو اور سکھر بیراج کا جائزہ لیا گیا ہے اور کچھ بندوں میں بریچ کے خطرات موجود ہیں۔ اس سال شینک بند سے پہلے ہی 5 لاکھ کیوسک پانی گزارا جا چکا ہے، اور پانی کے 5 سے 7 لاکھ کیوسک کے ریلا سے متاثرہ گاؤں کا ڈیٹا موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ انخلاء کا عمل جاری ہے اور پاکستان آرمی اور نیوی سے مدد لی جا رہی ہے، کیمپس اور طبی ٹیمیں بھی تعینات کی جا چکی ہیں۔ مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ تریموں بیراج سے ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک پانی گزر رہا ہے، پنجند میں 4 ستمبر تک صورتحال واضح ہو جائے گی، جبکہ 6 ستمبر کو گڈو بیراج پر انتہائی اونچے درجے کا ریلا متوقع ہے۔






