زمین کی پکار: پاکستان اور ماحولیاتی جنگ

0
518
از قلم: , محمد عثمان

پاکستان آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ماحولیات کے بحران نے زندگی کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، گلوبل وارمنگ کی شدت نے ہمارے موسموں کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے، کبھی بے وقت کی بارشیں اور سیلاب پورے گاؤں اور بستیاں اجاڑ دیتے ہیں اور کبھی سخت گرمی اور خشک سالی کسانوں کی زمینوں کو بنجر بنا دیتی ہے، حالیہ برسوں میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے لاکھوں معصوم لوگوں کو بے گھر کیا، مائیں اپنے بچوں کو گود میں اٹھائے کھلے آسمان کے نیچے پناہ ڈھونڈتی رہیں، کھیت کھلیان ڈوب گئے، مویشی بہہ گئے اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا لیکن سب سے بڑا نقصان انسانی زندگیوں اور خوابوں کا ہوا۔ دوسری طرف ہمارے بڑے شہر زہر آلود فضا کا نمونہ بن چکے ہیں، لاہور، کراچی اور فیصل آباد جیسے شہروں کی ہوا میں سانس لینا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے، اسموگ نے اسکولوں کو بارہا بند کرایا، بچوں کی مسکراہٹیں ماسک کے پیچھے چھپ گئیں اور ہسپتال مریضوں سے بھر گئے۔ گاڑیوں کا دھواں، صنعتوں کا زہریلا فضلہ اور پلاسٹک کا بے تحاشا استعمال اس تباہی کو اور بڑھا رہا ہے۔ پانی کی کمی نے پہلے ہی ہمارے ملک کو دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل کر دیا ہے جہاں پانی بحران کی بدترین سطح تک پہنچ چکا ہے، صاف پینے کے پانی کی فراہمی ایک خواب بنتی جا رہی ہے، گندے پانی کے باعث بیماریاں پھیل رہی ہیں، بچے مر رہے ہیں اور کسان کھیتوں کو سیراب کرنے کے لئے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی نے ہمارے وطن کو ننگی زمین میں بدل دیا ہے، پرندوں کی آوازیں معدوم ہو رہی ہیں، جانور اپنی پناہ گاہوں سے محروم ہیں اور زمین کی سانس رک رہی ہے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر دل کانپ جاتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔


لیکن ، یہ سب ناقابل حل نہیں، یہ سب بدلا جا سکتا ہے اگر ہم سب بحیثیت قوم بیدار ہو جائیں۔ ہمیں فوری طور پر قابل تجدید توانائی جیسے سورج، ہوا اور پانی سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے اپنانا ہوں گے تاکہ فضائی آلودگی کم ہو اور ہم باہر کی دنیا پر انحصار سے آزاد ہوں۔ ہمیں درخت لگانے کی مہم کو ایک نعرے کی بجائے ایک قومی عزم بنانا ہوگا، ہر شخص اگر سال میں ایک درخت بھی لگائے تو یہ زمین دوبارہ سانس لینا شروع کر دے گی۔ پانی کے مؤثر استعمال کے لئے ڈیمز کی تعمیر اور جدید آبپاشی کے نظام اپنانے کے ساتھ ساتھ گھروں میں بھی پانی بچانے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ ہمیں پلاسٹک کے استعمال کو اپنی زندگی سے نکالنا ہوگا اور حکومت کو چاہیے کہ صنعتوں پر سخت قوانین لاگو کرے تاکہ فضائی اور زمینی آلودگی کو روکا جا سکے۔ سب سے اہم یہ کہ ہمیں اپنے بچوں کو ماحول دوست رویے سکھانے ہوں گے، نصاب میں ماحولیات کو لازمی حصہ بنانا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں اس زمین کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں۔


پاکستان کے عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ماحولیات کا تحفظ محض ایک حکومتی نعرہ یا وقتی مہم نہیں بلکہ یہ ہماری بقا کا سوال ہے، یہ ہمارے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ سوچو دوست! اگر کل ہمارے بچے ہمیں پوچھیں کہ آپ نے ہمارے لئے کیا چھوڑا؟ صاف پانی یا زہریلی ندیاں؟ سرسبز میدان یا بنجر صحرا؟ صاف ہوا یا زہر آلود دھواں؟ تو ہم کیا جواب دیں گے؟ اس لئے آج ہی ہمیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی، اپنی زمین کے ساتھ محبت کا ثبوت دینا ہوگا۔ زمین ہماری ماں ہے اور کوئی بھی ماں اپنے بچوں کو تباہی میں نہیں دیکھ سکتی۔ آیئے سب مل کر اس ماں کو بچائیں، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی طرح سانس لے سکیں جیسے ہم نے لیا، اسی طرح زندگی کے رنگ دیکھ سکیں جیسے ہم نے دیکھے اور پاکستان ایک بار پھر قدرتی خوبصورتی اور زندگی سے بھرپور سرزمین بن سکے

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا