بیجنگ: چین نے دوسری عالمی جنگ میں فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پریڈ میں اپنا جدید ترین بین البراعظمی جوہری میزائل پہلی مرتبہ ڈی ایف 5سی مرتبہ عوام کے سامنے پیش کیا۔ چینی میڈیا کے مطابق یہ میزائل 20 ہزار کلومیٹر سے زائد رینج رکھتا ہے، جس کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈی ایف 5سی کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی نئی ساخت ہے، جسے تین حصوں میں تقسیم کرکے الگ الگ گاڑیوں کے ذریعے منتقل کیا جا سکتا ہے، اس سے لانچ کی تیاری میں وقت کم لگتا ہے۔ یہ میزائل آواز سے کئی گنا زیادہ تیز رفتاری سے پرواز کرتا ہے، جس کے باعث موجودہ دفاعی نظام کو اس کا جواب دینے کے لیے بہت کم وقت ملتا ہے۔
یہ میزائل ایک ساتھ کئی اہداف کو نشانہ بنانے، جوہری یا روایتی وار ہیڈز اور حتیٰ کہ ڈمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے دفاعی نظام کے لیے اس کو روکنا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، یہ جدید گائیڈنس ٹیکنالوجی سے لیس ہے، جس میں بیڈو نیوی گیشن سسٹم بھی شامل ہے جو اسے انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف پر ضرب لگانے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔





