آئی ايم ايف نے معاہدہ کرنا ہے تو کرے اگر نہيں کرنا چاہتا تو نہ کرے، اسحاق ڈار

0
148
ishaq-dar
ishaq-dar

اسلام آباد(طلوع نیوز)وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ايم ايف کے مطالبے پرمزيد مشکل فيصلے نہيں کر سکتے،معاہدہ کرنا ہے تو کرے اگر نہیں کرنا چاہتا تو نہ کرے ،آئی ایم ایف کے قرض پروگرام میں تاخیر کو پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے سے نہیں جوڑا جاسکتا ،مئی اور جون ميں 3.7ارب کی ادائيگيوں ميں کوئی پريشانی نہيں،چين پاکستان کا مزيد 2.4 ارب ڈالرکا قرضہ رول اوور کر دے گا،بجٹ 9جون کوپيش کيا جائے گا۔

وزيرخزانہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں صحافیوں سے غيررسمی گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ آئی ايم ايف کے مطالبے پرمزيد مشکل فيصلے نہيں کر سکتے۔اسحاق ڈارکا مزید کہا تھاکہ آئی ايم ايف نے جتنے پيشگی اقدامات کيے کر ليے،اب مزيد نہيں کر سکتے،وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی اور جون کے دوران 3.7 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں کی واپسی پر کوئی تشویش نہیں ہونی چاہیے اور ادائیگیوں کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی تمام پیشگی شرائط پوری کر دی ہیں اور اب یہ قرض دینے والے پر منحصر ہے کہ وہ معاہدے پر دستخط کرتا ہے یا نہیں، اس مرحلے پر مزید سخت فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین 2.4 ارب ڈالر کے قرض کو مزید رول اوور کردے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ 9 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ آئی ایم ایف ڈیل میں تاخیر کو ڈیفالٹ سے نہیں جوڑا جانا چاہیے، آئی ایم ایف پروگرام ہو یا کوئی پروگرام نہ ہو، پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ فنڈ کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ بہت پہلے طے پا جانا چاہیے تھا کیونکہ 9 فروری کو بات چیت ہوئی تھی اور اس کے فوراً بعد تمام پیشگی مطالبات پورے کر دیے گئے تھے حالانکہ حکومت نے بھاری سیاسی قیمت ادا کرتے ہوئے تمام سخت فیصلے لیے تھے۔انہوں نے وضاحت کی کہ کچھ دو طرفہ شراکت داروں نے گزشتہ سال اگست میں آئی ایم ایف کے ساتھ آخری جائزے کے وقت مالی امداد کا عہد کیا تھا اور اب آئی ایم ایف معاہدے پر دستخط سے قبل ان وعدوں کے پورا ہونے کا منتظر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان دو طرفہ دوستوں نے دوبارہ آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی تھی لیکن فنڈ چاہتا تھا کہ یہ رقم پہلے پاکستان کو منتقل کی جائے۔اسحٰق ڈار نے شکایت کی کہ یہ شکوک و شبہات پیدا کیے جا رہے ہیں پاکستان بین الاقوامی ادائیگیوں کے حوالے سے ڈیفالٹ کرنے جا رہا ہے، ایک بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی نے 30 جون سے پہلے پاکستان کی 3.7 ارب ڈالر کی بیرونی ادائیگیوں کے بارے میں بات کی اور جب اس نے وضاحت کے ساتھ صورتحال کا جواب دیا تو اگلے دن ایک اور ریٹنگ ایجنسی نے یہ دعویٰ کیا کہ پاکستان جولائی سے دسمبر تک اپنی غیر ملکی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کر سکے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو غیر منصفانہ بین الاقوامی سیاست کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے اور افواہیں پھیلانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ مارچ میں سرپلس میں تبدیل ہو گیا تھا اور اعداد و شمار کو حتمی شکل دیے جانے کے بعد اپریل میں اس میں مزید اضافہ ہو گا۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا