کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کا قانون عام عوام پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ اس کا مقصد دہشتگردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کرنا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مولانا ہدایت الرحمان کے علاقے میں مزدوروں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، جبکہ دنیا بھر میں دہشتگردی کے واقعات کے بعد قوانین فوری طور پر سخت کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ فرانس میں دہشتگردی کے ایک واقعے کے بعد ایک ہی دن میں قانون تبدیل کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2016 میں وکلاء کے قتل عام کے ماسٹر مائنڈ سعید بادینی کو گرفتار کیا گیا مگر بروقت ٹرائل نہ ہوسکا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف گواہی دینے کو کوئی تیار نہیں جبکہ لاپتہ افراد کے مسئلے کو بھی مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ گرفتار ہونے والے شخص کے اہل خانہ کو فوراً اطلاع دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب دہشتگردی کا شکار ہیں اور پارلیمنٹ کی قیادت کے بغیر یہ جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا منشور دہشتگردی کو روکنا ہے اور ہم دہشتگردوں کے سامنے کبھی نہیں جھکیں گے۔






