دریائے فرات خشک سالی کا شکار ہوگیا

0
296

بغداد: عراق کا تاریخی دریائے فرات بدترین خشک سالی اور پانی کی کمی کے باعث کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جس کے نتیجے میں نجف اور سماوہ جیسے بڑے شہر پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد آبادی والا عراق مسلسل بڑھتے درجہ حرارت، خشک سالیوں اور پانی کے بحران کی لپیٹ میں ہے۔ نجف یونیورسٹی کے ماہر حسن الخطیب نے تصدیق کی ہے کہ حالیہ ہفتوں میں دریائے فرات کی سطح کئی دہائیوں کی کم ترین سطح تک گر چکی ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کو دریائے فرات سے اپنے حصے کا صرف 35 فیصد سے بھی کم پانی مل رہا ہے۔ وزارتِ آبی وسائل کے مطابق مصنوعی جھیلوں میں بھی پانی کے ذخائر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر ہیں، جس سے زرعی پیداوار اور شہری ضروریات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

پانی کے بہاؤ میں کمی نے نہ صرف معیار کو خراب کیا ہے بلکہ ماحولیاتی نظام کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔ دریائے فرات میں خود رو آبی پودوں کی تیز افزائش ایک اور بڑا مسئلہ بن گئی ہے، جو دن میں پانچ لیٹر تک پانی جذب کرتے ہیں۔ یہ پودے سورج کی روشنی اور آکسیجن روک کر آبی حیات کو تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا