اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کے مختلف اقدامات اور اختیارات کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے انفرادی طور پر اپیلیں دائر کر دی ہیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی جج کو صرف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہی کام سے روکا جا سکتا ہے، جبکہ ہائیکورٹ اپنے خلاف رِٹ جاری نہیں کر سکتی۔ مزید کہا گیا کہ چیف جسٹس صرف آرٹیکل 202 کے تحت بنے رولز کے مطابق بینچ تشکیل دے سکتے ہیں اور ماسٹر آف روسٹر کا نظریہ پہلے ہی کالعدم قرار دیا جا چکا ہے۔
پانچوں ججز جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت، جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے الگ الگ اپیلیں سپریم کورٹ میں دائر کیں اور بائیو میٹرک بھی کرایا۔
واضح رہے کہ جسٹس محسن اختر کیانی نے آج ہی ایک الگ درخواست میں مؤقف اپنایا تھا کہ چیف جسٹس انتظامی اختیارات کی بنیاد پر بنچ میں تبدیلی یا ججز کو عدالتی فرائض سے نہیں روک سکتے۔






