نو مئی کیس: عمران خان کے ویڈیو لنک ٹرائل کو لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ میں چیلنج

0
237

راولپنڈی میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے ویڈیو لنک ٹرائل کے خلاف لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کر دی گئی۔

سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا نوٹیفکیشن بھی چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل بنیادی حق ہے، لیکن واٹس ایپ یا ویڈیو لنک ٹرائل میں وکلاء اور ملزم کے درمیان مشاورت ممکن نہیں۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ویڈیو لنک ٹرائل غیر قانونی و غیر آئینی ہے اور واٹس ایپ لنک کے ذریعے ہونے والی کارروائی یا بیانات بھی کالعدم قرار دیے جائیں۔ درخواست گزار نے استدعا کی کہ عمران خان کو جیل سے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ باقی ٹرائل اوپن جیل سماعت میں مکمل ہو سکے۔

پٹیشن 25 ستمبر کو جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس وحید خان پر مشتمل ڈویژن بینچ کے روبرو ابتدائی سماعت کے لیے مقرر ہونے کا امکان ہے۔

میڈیا سے گفتگو

سلمان اکرم راجا نے عدالتی کارروائی کے بائیکاٹ کے بعد کہا کہ ویڈیو لنک پر نہ آواز درست آ رہی تھی اور نہ تصویر۔ بانی پی ٹی آئی کمرہ عدالت میں ہونے والی کارروائی سے لاعلم رہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلی عدالت میں مقدمہ ہونا چاہیے تاکہ ملزم وکلاء سے مشاورت کر سکے اور گواہوں کا سامنا بھی کر سکے۔

ان کے مطابق ویڈیو لنک ٹرائل، فیئر ٹرائل کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے اور اس عمل میں دانستہ طور پر عمران خان کو آئسولیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

سماعت سے قبل گفتگو

سلمان اکرم راجا کا مزید کہنا تھا کہ سائفر کیس میں بھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے ویڈیو لنک ٹرائل کو غیر قانونی قرار دیا تھا، اسی طرح 9 مئی کیس میں بھی اوپن کورٹ میں سماعت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اڈیالہ جیل میں سماعت کے دوران وکلاء، گواہ اور فیملی سب موجود ہوتے ہیں لیکن ویڈیو لنک کے ذریعے یہ ممکن نہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا