امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں عالمی ادارے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یو این جنگیں روکنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے مودی سرکار سمیت کئی ممالک کے رویے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ کھوکھلے الفاظ جنگیں نہیں روکتے۔
ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کامیابیاں اجاگر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا میں غیر قانونی افراد کی آمد صفر ہوگئی ہے، مہنگائی کم ہوئی اور سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی معیشت مضبوط اور سرحدیں محفوظ ہیں، اور گزشتہ ایک سال میں سعودی عرب، قطر اور یو اے ای امریکا کے قریب آ گئے ہیں۔
انہوں نے غزہ میں جاری جنگ پر بھی بات کی، کہا کہ 65 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور فوری جنگ بندی ہونی چاہیے۔ ٹرمپ نے یرغمالیوں کے مسئلے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ 20 یرغمالیوں کو زندہ واپس لانا اور 38 کی لاشیں واپس لانا ترجیح ہونی چاہیے۔
اس کے علاوہ ٹرمپ نے روس-یوکرین تنازع، حماس، ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور ماحولیاتی پالیسیوں پر بھی تنقید کی، اور کہا کہ امریکا کا دور سنہری ہے، اور پچھلی انتظامیہ نے ملک کو بے پناہ مشکلات سے دوچار کیا۔





