پہلی بار ہائیکورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے،جسٹس طارق محمود جہانگیری

0
195

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کہا ہے کہ ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے اور پہلی بار ہائی کورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے۔

کراچی میں سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ کے روبرو ڈگری کیس کی سماعت ہوئی جس میں جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس ثمن رفعت، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور جامعہ کراچی کے وکیل پیش ہوئے۔

جسٹس طارق محمود جہانگیری کا مؤقف

انہوں نے روسٹرم پر کہا کہ انہیں کبھی جامعہ کراچی کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں بھیجا گیا۔ ان کی ڈگری اصلی ہے اور وہ امتحان میں بھی شریک ہوئے تھے۔ 34 برس بعد ان کی ڈگری کو جعل سازی سے متنازع بنایا گیا۔ ان کے خلاف کرپشن یا جانبداری کا کوئی الزام نہیں، صرف وفاداری کے حلف کو جرم بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کم از کم انہیں سماعت کا موقع دیا جائے، پھر چاہے فیصلہ ان کے خلاف آئے۔

وکلا کے دلائل اور اعتراضات

سماعت کے دوران وکلا نے بنچ پر اعتراضات اٹھائے اور مؤقف اختیار کیا کہ متاثرہ شخص کو شامل کیے بغیر درخواست قابل سماعت نہیں ہو سکتی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ فوری سماعت کی درخواست نمٹائی جا چکی ہے، اگر اعتراض ہے تو اپیل کا حق استعمال کیا جائے۔ جامعہ کراچی کے وکیل نے کہا کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے عدالت کو گمراہ کیا ہے۔

عدالتی فیصلہ

سماعت کے دوران فریقین کے وکلا نے کہا کہ پہلے ان کے اعتراضات پر فیصلہ کیا جائے، تاہم بعد میں تمام درخواست گزاروں کے وکلا عدالت چھوڑ کر چلے گئے۔ عدالت نے عدم پیروی کی بنیاد پر تمام درخواستیں خارج کر دیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا