پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق صوبائی وزیر اور پی ٹی آئی رہنما کامران بنگش کو پولیس پارٹی پر فائرنگ اور مراد سعید کو پناہ دینے کے الزامات سے بری کردیا۔ مقدمہ میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ 20 اکتوبر 2023ء کو تھانہ چمکنی کی حدود میں پولیس چھاپے کے دوران کامران بنگش نے فائرنگ کی اور مراد سعید کو پناہ دی، تاہم وکلا نے دلائل دیے کہ اس الزام کا کوئی ثبوت یا ریکارڈ موجود نہیں اور یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا۔ عدالت نے عدم ثبوت کی بنا پر فیصلہ سنایا۔
بری ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کامران بنگش نے کہا کہ ان پر جھوٹے الزامات لگائے گئے اور پولیس نے ان کے گھر پر چھاپہ مار کر بے بنیاد مقدمہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت آفس میں موجود تھے اور پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے تھے۔ بنگش نے مزید کہا کہ حق اور سچ کی ہمیشہ فتح ہوتی ہے اور وہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر پشاور میں بڑے جلسے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ عوام کو واضح پیغام دیا جا سکے۔





