پاکستان اور آئی ایم ایف مذاکرات: پاور سیکٹر کے گردشی قرض کی ڈیڈ لائن 2031 مقرر

0
141

اسلام آباد: حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان معاشی مذاکرات میں اہم فیصلے سامنے آئے ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو پاور سیکٹر کا گردشی قرض ختم کرنے کے لیے 2031 کی ڈیڈ لائن دے دی ہے، جس کے تحت ہر سال گردشی قرض کے بہاؤ کو زیرو رکھنے کی شرط عائد کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے کیپٹو پاور پلانٹس پر ٹرانزیشن لیوی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رواں مالی سال ان پلانٹس پر 10 فیصد لیوی عائد کی جائے گی، جبکہ جنوری 2026 سے یہ شرح بڑھا کر 15 فیصد کر دی جائے گی۔ صرف آف گرڈ کیپٹو پاور پلانٹس سے رواں مالی سال کے دوران 105 ارب روپے آمدن متوقع ہے۔

سیلاب کے نقصانات اور معیشت پر اثرات

بریفنگ میں آئی ایم ایف وفد کو بتایا گیا کہ حالیہ سیلاب کے باعث معیشت کو 370 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ ملک بھر میں 1006 افراد جاں بحق اور 1063 زخمی ہوئے، جبکہ 12 ہزار 569 مکانات، 2 ہزار 130 کلومیٹر سڑکیں اور 248 پل تباہ ہوئے۔

مزید بتایا گیا کہ 866 پانی کی سہولیات، 1098 تعلیمی ادارے اور 128 صحت کے مراکز متاثر ہوئے۔ زرعی شعبے کو مجموعی طور پر 155 ارب روپے نقصان ہوا، جس میں اہم فصلوں کا نقصان 87 ارب روپے ہے۔ تقریباً 3.26 ملین ایکڑ زرعی رقبہ متاثر ہوا جبکہ 11 ہزار مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

معاشی اعشاریے اور بیرونی مالیاتی ضروریات

حکومت نے آئی ایم ایف وفد کو بتایا کہ رواں مالی سال معاشی شرح نمو کا ہدف 3.9 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ 26 ارب ڈالر کی بیرونی مالیاتی ضرورت ہوگی۔

پاکستان نے ستمبر 2025 میں 500 ملین ڈالر کی ادائیگی کر دی ہے جبکہ اپریل 2026 میں 1 ارب ڈالر کا یوروبانڈ واجب الادا ہے۔ حکومت مالی سال 26-2025 کی آخری سہ ماہی میں نئے یوروبانڈز کے اجرا پر بھی غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی معاشی ٹیم اور آئی ایم ایف وفد کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا