خیبر پختونخوا کابینہ کے 39ویں اجلاس میں کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اجلاس کے بعد بریفنگ میں بتایا کہ سرکاری کالجوں میں اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے عارضی بنیادوں پر تین ہزار سے زائد اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس پر سالانہ تین ارب روپے لاگت آئے گی۔
اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے غیر منقولہ جائیداد کے انتقال پر عائد ٹیکس کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا، کیونکہ یہ صوبائی دائرہ اختیار ہے۔
مزید برآں، وطن واپس جانے والے افغان مہاجرین کو ٹرانسپورٹ سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کو ریلیف فنڈ استعمال کرنے کی اجازت دی گئی، جبکہ سیاحت کے فروغ کے لیے گلیات ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور دیگر اداروں کو ایک ارب روپے گرانٹ ان ایڈ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
کابینہ نے بعض سرکاری اسکولوں اور کالجوں کو پائلٹ بنیادوں پر آؤٹ سورس کرنے کی منظوری دی تاکہ کم انرولمنٹ والے اداروں میں معیارِ تعلیم بہتر ہو سکے، تاہم ان اساتذہ کی ملازمت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور تعلیم بدستور مفت فراہم کی جائے گی۔
اجلاس میں خواتین کے جائیداد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ویمن پراپرٹی رائٹس رولز 2025 منظور کیے گئے، ویمن کمیشن کی نئی چیئرپرسن اور ممبران کی تعیناتی کی گئی، جبکہ ضلع پہاڑ پور اور ضلع اپر سوات کے نام سے دو نئے اضلاع کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔
صوبے میں خیبر پختونخوا ماؤنٹین ایگریکلچر پالیسی اور فارمیسی سروسز پالیسی کی بھی منظوری دی گئی، جو اپنی نوعیت کی پہلی پالیسیز قرار دی گئیں۔
مزید فیصلوں میں پشاور کے لیے 10 کروڑ اور دیگر ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے لیے پانچ، پانچ کروڑ روپے کی شجرکاری گرانٹ، شہداء کے لواحقین کے لیے خصوصی معاوضے، دو مریضوں کے علاج کے لیے 45 لاکھ روپے، بار ایسوسی ایشنز اور این جی اوز کے لیے چار کروڑ روپے گرانٹس ان ایڈ شامل ہیں۔
اجلاس میں صوبائی کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، انتظامی سیکرٹریز اور ایڈووکیٹ جنرل شریک ہوئے۔






