سات ملزمان کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا

0
197

ایران میں آج دو الگ الگ مقدمات میں 7 افراد کو پھانسی دے دی گئی۔ ایرانی عدلیہ کی نیوز ایجنسی میزان کے مطابق 6 ملزمان کو صوبہ خوزستان کے شہر خورم‌ میں تختہ دار پر لٹکایا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کیا جس میں 4 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

ساتویں شخص، محمدی خیاره، ایک کرد شہری تھا جسے 2009 میں کردستان کے شہر سنندج میں پرو حکومت سنی عالم ماموستا شیخ الاسلام کے قتل کا مرتکب قرار دیا گیا۔ میزان نے دعویٰ کیا کہ ان افراد کا اسرائیل سے تعلق تھا، تاہم انسانی حقوق کے گروپس نے اس الزام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

ان گروپس کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت اکثر اقلیتی علاقوں میں بغاوت یا احتجاج کو “غیر ملکی مداخلت” سے تعبیر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ایران میں رواں سال اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے، جن میں زیادہ تر کو جاسوس قرار دیا گیا تھا۔

ایران پر اسرائیل کے حملے میں متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کی ہلاکت کے بعد کی گئی تفتیش میں متعدد شہریوں کو جاسوس پایا گیا۔ انہیں اسرائیل کو خفیہ اور حساس معلومات فراہم کرنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا اور پھانسی کی سزائیں دی گئیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس ایران میں 950 سے زائد جبکہ 2023 میں 850 سے زائد افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔ ایران دنیا میں سعودی عرب اور چین کے بعد سب سے زیادہ پھانسی دینے والا ملک شمار ہوتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا