پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر پنجاب کو باہر کی امداد کی ضرورت نہیں تو وہ وسائل ہمیں دے دے۔ صوبائیت پر بات کرنا درست نہیں، نہروں اور پانی کے مسائل مخصوص فورمز پر ہی حل ہونے چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ڈیٹا استعمال کیا جانا چاہیے۔ ایمل ولی سے سیکیورٹی واپس لینے کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کو تھریٹ ہیں، انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم ہونی چاہیے۔
فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ رقبے کی بنیاد پر تقسیم ہوتے ہیں اور پنجاب کو سب سے زیادہ حصہ ملتا ہے، لیکن اب وقت ہے کہ ملک کو آگے لے کر جایا جائے۔ سعودی عرب کے ساتھ معاہدہ ترقی کا ایک بڑا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر سے وزیراعلیٰ کو ایڈورڈز کالج کے اختیارات دینا درست نہیں، پہلے یونیورسٹیاں تباہ ہوئیں اب کالج کے فنڈز پر نظریں ہیں۔ مزید کہا کہ صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن ہو رہے ہیں، وزیراعلیٰ کو اسمبلی میں آ کر اپنی پالیسی واضح کرنی چاہیے۔
گورنر نے وزیر تعلیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جاہلانہ پالیسیوں نے تعلیمی اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔






