وفاقی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے 18 ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی پاکستان سعودی عرب اقتصادی فریم ورک کے تحت مذاکرات کی قیادت کرے گی اور اس میں وفاقی وزراء، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن، اسٹیٹ بینک، فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانے کے سینئر حکام شامل ہیں۔ کمیٹی کے شریک چیئرمین وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق مسعود ملک اور نیشنل کوآرڈینیٹر ایس آئی ایف سی لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد مقرر کیے گئے ہیں، جو مرکزی ٹیمیں تشکیل دیں گے اور مذاکرات کے عمل کو تیز کرنے کی نگرانی کریں گے۔
نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی ہے کہ کمیٹی کے اراکین چھ اکتوبر سے دستیاب رہیں اور کسی بھی اجلاس کے لیے سفری منظوری ایک گھنٹے کے اندر مکمل کی جائے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان مذاکرات میں سعودی عرب سے تیل اور زراعت کے شعبوں میں بائے بیک سرمایہ کاری کی تجدید اور پاکستانی برآمدات میں اضافے کی درخواست کرے گا جبکہ تیل ریفائنری منصوبہ بھی زیرِ غور آئے گا۔ امکان ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف رواں ماہ کے آخری ہفتے میں سعودی عرب کا سرکاری دورہ کریں گے تاکہ اقتصادی معاہدوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔






