وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی سفارت خانے پر حملے کی ایک مبینہ سازش کو ناکام بنا دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ملکی سیکیورٹی فورسز نے فالس فلیگ بم دھماکے کا منصوبہ بے نقاب کیا، جس کا مقصد حکومت کو بدنام کرنا اور امریکا کے ساتھ تعلقات مزید خراب کرنا تھا۔
صدر مادورو نے بتایا کہ حکومت کو اس سازش کے بارے میں ایک ملکی اور ایک بین الاقوامی ذریعے سے اطلاع ملی تھی کہ مقامی دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر امریکی سفارت خانے میں بم نصب کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ فورسز کو فوری طور پر حفاظت کے لیے تعینات کیا گیا، جبکہ ملوث افراد کے نام جلد منظرعام پر لائے جائیں گے۔
واضح رہے کہ 2019 میں امریکا اور وینزویلا کے سفارتی تعلقات ٹوٹنے کے بعد سے امریکی سفارت خانہ بند ہے اور وہاں صرف حفاظتی عملہ موجود ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل کو وینزویلا کے ساتھ مذاکرات روکنے کی ہدایت دی ہے، جبکہ عسکری کارروائی کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
امریکا نے صدر مادورو پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے سر کی قیمت 50 ملین ڈالر مقرر کی ہے۔ امریکی بحری جہاز، آبدوزیں اور ایف-35 طیارے وینزویلا کے قریب تعینات ہیں۔
دوسری جانب مادورو نے امریکی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا میں حکومت تبدیل کرنے کی سازش کر رہا ہے۔






