وفاق ضم اضلاع کے فنڈز نہیں دے رہا، صوبہ خود برداشت کر رہا ہے: علی امین گنڈا پور

0
186

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کی فنڈنگ وفاق کی ذمہ داری ہے، لیکن وفاقی حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی۔

وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی زیر صدارت ویڈیو لنک اجلاس ہوا، جس میں مشیر خزانہ، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹریز، محکمہ خزانہ اور منصوبہ بندی کے متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان اور ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے تحت ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر غور کیا گیا۔ اضلاع کی سطح پر جاری منصوبوں کی مالی و عملی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اہم فیصلے کیے گئے۔

وزیراعلیٰ کو ڈی ڈی پی اور ڈی ڈی آئی پروگرامز کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ان منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لیے درکار فنڈز جلد فراہم کیے جائیں۔

اجلاس میں ضم اضلاع کے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام سے متعلق معاملات پر بھی غور کیا گیا۔ اے آئی پی کے تحت جاری منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے برج فنانسنگ کے طور پر 12 ارب روپے جاری کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ یہ معاملہ حتمی منظوری کے لیے صوبائی کابینہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ اجلاس میں وفاقی حکومت کی جانب سے اے آئی پی کے فنڈز جاری نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور بروقت فنڈز کے اجرا کا مطالبہ کیا گیا۔

علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ضم اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے صوبائی حکومت اپنے وسائل سے منصوبوں کو فنڈنگ کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے ترقیاتی فنڈز کے اجرا میں تاخیر مسائل کو بڑھا رہی ہے۔ صوبائی حکومت ضم اضلاع کے عوامی نمائندوں سے مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، میرٹ اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ غیر ضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی، مؤثر عملدرآمد، فنڈز کے دانشمندانہ استعمال اور شفافیت کے لیے متعلقہ اداروں کی صلاحیت بڑھانا ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ترقیاتی منصوبوں کے تمام مراحل کو ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے اور مانیٹرنگ کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا