کسی قانون کی افادیت یا کمی کا فیصلہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے:جسٹس جمال مندوخیل

0
153

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت پارلیمنٹ سے مشورہ لے سکتی ہے، ممکن ہے کوئی بہتر مشورہ مل جائے، کیونکہ کسی قانون کی افادیت یا ناکافی ہونے کا فیصلہ عدالت نہیں بلکہ پارلیمنٹ کرتی ہے۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی آئینی بینچ سپر ٹیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔ سماعت کے دوران بینچ اور وکلاء کے درمیان آئینی، قانونی اور معاشی پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

معروف قانون دان فروغ نسیم نے اپنے دلائل میں مؤقف اختیار کیا کہ جو بھی ہدایت سپریم کورٹ جاری کرے، پارلیمنٹ اس کی پابند ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عدالت کو حکومت کو رعایتوں میں ترمیم کی اجازت نہیں دینی چاہیے، کیونکہ ایسا کرنا آئینی دائرہ کار سے تجاوز کے مترادف ہے۔

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ “ہم پارلیمنٹ سے مشورہ لے سکتے ہیں، ہوسکتا ہے کوئی اچھا مشورہ مل جائے۔ حکومت کی جانب سے دی جانے والی رعایتوں کا تعلق بھی ماضی کے قوانین سے ہی ہوتا ہے۔”

اس موقع پر فروغ نسیم نے کہا کہ اگر حکومت کسی رعایت کا اعلان کرے اور وہ کسی طبقے تک نہ پہنچے تو اس کا تعلق بھی ماضی کے قانون سے ہی سمجھا جائے گا۔

جسٹس مندوخیل نے استفسار کیا کہ “آپ کہہ رہے ہیں حکومت انسینٹیو دے رہی ہے، لیکن حقیقت میں حکومت کچھ نہیں دے رہی۔ یہاں معاملہ منافع اور آمدن کا ہے۔ اگر میں اپنی جائیداد بیچتا ہوں تو فائدہ یا نقصان میرا اپنا ہے۔”

فروغ نسیم نے مزید کہا کہ عدالت کو رعایت کی حد تک حکومت کو ترمیم کی اجازت نہیں دینی چاہیے، کیونکہ یہ عمل عدالتی حدود سے تجاوز ہوگا۔

سماعت کے اختتام پر انہوں نے استفسار کیا کہ “کیا کل چھبیسویں ترمیم کی سماعت ہو گی یا سپر ٹیکس کیس؟”
جس پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ “کل سپر ٹیکس کیس ہی سنا جائے گا۔”

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا