خون کا حساب لینے کیلئے افغانستان میں کارروائی ہمارا حق ہے:خواجہ آصف

0
210

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف خون بہانے والوں کا حساب لینے کے لیے افغانستان میں داخل ہونا ہمارا حق ہے، جبکہ افغان حکومت اب تک یہ یقین دہانی کرانے میں ناکام رہی ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان دشمن عناصر کے استعمال میں نہیں آئے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم اپنی مٹی کی حرمت پامال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی افغان سرزمین کو نقصان پہنچائیں گے، لیکن کابل حکومت اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دے سکی کہ بھارت نواز عناصر وہاں سے پاکستان کے خلاف سرگرم نہیں ہوں گے۔

خواجہ آصف نے الزام لگایا کہ ہزاروں طالبان کو سابق وزیراعظم عمران خان پاکستان میں لا کر بسایا، اور آج بھی پی ٹی آئی دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کرتی ہے۔ ان کے مطابق برسوں سے پاک فوج اور عوام کا خون بہایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات اور وفود کی آمدورفت کے باوجود ملک میں خونریزی بند نہیں ہوئی، اور آئے دن پاکستانی فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق 60 لاکھ افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی قیمت پاکستان نے اپنے خون سے چکائی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ یہ مہمان اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ ان کے بقول ایسے مہمان کیسے ہیں جو میزبانوں کا خون بہاتے اور قاتلوں کو پناہ دیتے ہیں؟

ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کی سہولت کاری جاری ہے۔ پاکستان مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر افغان حکومت کسی ضمانت پر آمادہ نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم طالبان کے رہنماؤں کو بلٹ پروف گاڑیاں دی گئی ہیں اور انہیں نئی پناہ گاہیں بنانے میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان نے کابل میں واضح پیغام دیا کہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں پر کنٹرول کیا جائے۔ تاہم افغان وزیر خارجہ خود بھارت میں بیٹھ کر بیانات دے رہے ہیں، جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ بھارت کی اجازت سے مذاکرات کریں گے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا