مرید کے میں جھڑپیں،پولیس انسپیکٹر سمیت پانچ ہلاک، درجنوں زخمی

0
444

لاہور میں فلسطینیوں کے حق میں نکالے گئے مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا جس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک اور درجنوں اہلکار زخمی ہوئے، پولیس حکام اور عینی شاہدین کے مطابق۔پیر کی صبح ٹی ایل پی کی جانب سے پارٹی چیئرمین سعد رضوی کی ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں انہوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ بند کرنے کی اپیل کی اور مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ ویڈیو کے پس منظر میں گولیوں کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں۔

ٹی ایل پی نے دعویٰ کیا ہے کہ سعد رضوی بھی جھڑپوں کے دوران زخمی ہوئے، تاہم ان کی موجودہ حالت یا مقام کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مفرور رہنماؤں اور مظاہرین کی تلاش کے لیے قریبی آبادیوں میں سرچ آپریشن جاری ہے

پنجاب پولیس کے سربراہ عثمان انور نے بتایا کہ مظاہرین نے پولیس پر فائرنگ کی جس میں ایک اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق جھڑپوں کے دوران تین مظاہرین اور ایک راہگیر بھی مارا گیا۔

یہ مارچ تحریک لبیک پاکستان نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے منظم کیا تھا۔ جماعت کے بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہے اور اس کے سینکڑوں کارکن زخمی ہوئے ہیں۔

ٹی ایل پی کی جانب سے جاری ویڈیوز میں متعدد گاڑیوں کو آگ لگائے جانے کے مناظر سامنے آئے جن میں پارٹی رہنماؤں کو لے جانے والا ایک ٹرک بھی شامل تھا۔ مارچ جمعہ کو لاہور سے شروع ہوا اور شرکاء کا اسلام آباد کی جانب بڑھنے کا اعلان تھا۔

ہفتے کو بھی مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں جن کے دوران 100 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا۔ تازہ تصادم اس وقت ہوا جب شرکاء نے سڑکوں پر رکھے گئے کنٹینرز ہٹانے کی کوشش کی۔ پولیس سے جھڑپ کے بعد مظاہرین نے مریدکے کے قریب ڈیرے ڈالے اور وہاں سے مارچ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا