پنجاب اسمبلی کا اجلاس، ٹی ایل پی کے معاملے پر بات نہ کرنے پر پی ٹی آئی ارکان کا احتجاج، واک آؤٹ

0
267

لاہور میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس طویل تاخیر کے بعد ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنہڑ کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں تلاوت، نعت اور قومی ترانہ پیش کیا گیا جبکہ شہدا اور دیگر مرحومین کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

اپوزیشن لیڈر معین ریاض قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال سنگین ہے، مریدکے میں خونریزی ہوئی اور عوام خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایوان سرکاری کارروائی معطل کرکے تحریک لبیک سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بات کرے۔

وزیر پارلیمانی امور مجتبیٰ شجاع الرحمن نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریک لبیک سے مذاکرات کے لیے حکومت تیار ہے لیکن تشدد، سڑکوں کی بندش اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے کسی طور قبول نہیں۔ انہوں نے اپوزیشن کو نو مئی واقعات سے اس معاملے کا موازنہ نہ کرنے کا کہا۔

اپوزیشن نے مطالبہ تسلیم نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا، نعرے لگائے اور اسپیکر ڈائس کا گھیراؤ کیا۔ ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر اچھالی گئیں اور بعد ازاں ارکان واک آؤٹ کرگئے۔

دورانِ اجلاس مجتبیٰ شجاع الرحمن نے تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ مذہبی تنظیمیں انتشار نہیں پھیلا سکتیں۔ انہوں نے حافظ فرحت عباس کے اعداد و شمار کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے استعفیٰ کا چیلنج دے دیا۔

پیپلز پارٹی کے ممتاز علی چانگ نے وزیراعلیٰ پنجاب کے حالیہ ریمارکس پر احتجاج کیا اور سیکیورٹی واپس لینے، انتقامی کارروائیوں اور اتحادیوں کی نظراندازی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھی واک آؤٹ کا اعلان کردیا۔

اپوزیشن لیڈر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 282 افراد شہید اور 1600 زخمی ہوئے لیکن حکومت جواب دینے سے قاصر ہے۔ انہوں نے تحریک لبیک کے خلاف آپریشن اور عوامی مسائل پر بحث نہ ہونے کو ناکامی قرار دیا۔

اسی شور شرابے کے دوران پنجاب لوکل گورنمنٹ بل 2025ء کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔ اپوزیشن کے واویلا، احتجاج اور ترامیم کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا۔ اسپیکر نے کارروائی جاری رکھتے ہوئے بل منظور کیا جبکہ اپوزیشن بار بار اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتی رہی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا