نوبیل انعام معاشیات اسرائیل، فرانس اور کینیڈا کے ماہرین کے نام

0
296

رواں سال کا نوبیل انعام برائے معاشیات اسرائیلی نژاد امریکی جویل موکیر، فرانس کے فیلیپ اگھیوں اور کینیڈا کے پیٹر ہاوٹ کو مشترکہ طور پر دیا گیا۔

انھیں عالمی معیشت میں اختراع، تنوع اور تخلیقی مضمرات کی نشاندہی کے ذریعے پائیدار ترقی کے نظریات پر گراں قدر تحقیق کے اعتراف میں یہ اعزاز دیا گیا۔

نوبیل کمیٹی نے بتایا کہ 79 سالہ جویل موکیر کو نصف انعام دیا جائے گا، جبکہ باقی نصف رقم 69 سالہ فیلیپ اگھیوں اور 79 سالہ پیٹر ہاوٹ میں برابر تقسیم ہوگی۔

موکیر کو نصف رقم اس تحقیق پر دی گئی کہ کس طرح ٹیکنالوجی اور سائنسی پیشرفت نے صدیوں تک اقتصادی ترقی ممکن بنائی، اور صنعتی انقلاب کے بعد یورپ اور دنیا میں مسلسل ترقی کے عمل کی وضاحت کی۔

اگھیوں اور ہاوٹ نے تخلیقی بربادی کے اصول پر مبنی ایک ریاضیاتی ماڈل پیش کیا، جس میں نئی اختراعات کے پرانی صنعتوں کی جگہ لے کر معیشت کو آگے بڑھانے کا عمل واضح کیا گیا۔

تخلیقی بربادی کا تصور جوزف شومپیٹر نے متعارف کروایا تھا، جس کے مطابق نئی ٹیکنالوجی پرانی صنعتوں کو ختم کر کے اقتصادی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے۔

نوبیل کمیٹی کے چیئرمین جان ہاسلر نے کہا کہ اختراع اور مقابلے کے عمل کو برقرار رکھنا معیشت کے لیے ضروری ہے، ورنہ وہ جمود کا شکار ہو سکتی ہے۔

2025 کے نوبیل انعام کی مجموعی رقم 11 ملین سویڈش کرونا (تقریباً 1.2 ملین امریکی ڈالر) ہے۔

واضح رہے کہ نوبیل انعام برائے معاشیات 1968 میں سویڈن کے مرکزی بینک نے شروع کیا، اور اب تک صرف تین خواتین اس اعزاز سے نوازے جا چکی ہیں۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا