مریدکے میں پیر کی صبح قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں کے درمیان تصادم میں ایک پولیس افسر، تین مظاہرین اور ایک راہگیر سمیت کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے۔
پنجاب پولیس کے مطابق کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب ٹی ایل پی کے کارکنوں نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف احتجاجی مارچ کے دوران سکیورٹی اہلکاروں پر پتھروں، لاٹھیوں اور پیٹرول بموں سے حملہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے اندھا دھند فائرنگ بھی کی۔
فائرنگ اور جھڑپوں میں ایک ایس ایچ او شہید جبکہ 48 پولیس اور رینجرز اہلکار زخمی ہوئے۔ ٹی ایل پی کے تین کارکن اور ایک راہگیر بھی جان سے گئے، آٹھ شہری زخمی ہوئے جبکہ متعدد گاڑیاں نذرِ آتش کی گئیں۔
پولیس نے ٹی ایل پی قیادت اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں قتل، سرکاری املاک کو نقصان، سڑکیں بلاک کرنے، اور لاؤڈ سپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی بھی شامل ہے۔
حکام کے مطابق 40 سے زائد سرکاری و نجی گاڑیاں جلائی گئیں اور کئی افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اطراف کے علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے اور اہم سڑکیں بند رہیں۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے واضح کیا کہ ٹی ایل پی سربراہ حافظ سعد رضوی محفوظ ہیں اور گرفتار نہیں ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی گرفتاری یا زخمی ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا۔
واقعات کے بعد کراچی سمیت دیگر شہروں میں بھی چھوٹے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا جبکہ نارتھ کراچی اور ناگن چورنگی میں سڑکیں بلاک ہوئیں۔ پولیس نے متعدد کارکنوں کو حراست میں لیا۔
مریدکے اور ملحقہ علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھاری نفری تعینات ہے۔ شاہراہیں اور موٹر ویز رات گئے بحال ہو گئی ہیں جبکہ کچھ علاقوں میں انٹرنیٹ بندش جزوی طور پر ختم کی گئی۔
پنجاب حکومت نے واضح کیا کہ ریاست پر حملہ یا عوام کو یرغمال بنانے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ ٹی ایل پی کا لانگ مارچ جمعہ سے فلسطین کے حق میں اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا تھا۔






