جس افسر نے کام کرنا ہے وہ کام کا ہے، جو نہیں کرتا وہ گھر جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ

0
377

اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کے دوران واضح ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو افسر کام کرتا ہے وہی قابلِ قبول ہے، اور جو نہیں کرتا وہ گھر جائے۔

شاہ اللہ دتہ اور سی-13 کے متاثرین کی درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے سی ڈی اے کو ہدایت دی کہ ایک ماہ کے اندر متاثرین کی درخواستوں پر فیصلہ کیا جائے۔

دورانِ سماعت وکیل نے استدعا کی کہ کیس میں شامل ایک ڈپٹی کمشنر کا تبادلہ روک دیا جائے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست مسترد کردی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ عدالت کسی افسر کی سفارش کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے لیے ہمدردی رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی افسر ڈیپوٹیشن پر جا رہا ہے تو جانے دیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوئی سرکاری افسر مخصوص یا ناگزیر نہیں، اصل اہمیت کام کی ہے۔ جس نے کام نہیں کرنا، وہ گھر چلا جائے۔ عدالت نے وکیل سے پوچھا کہ وہ اپنا کیس لڑنے آئے ہیں یا کسی افسر کی نوکری بچانے۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر کے تبادلہ روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سی ڈی اے کو ایک ماہ میں متاثرین کی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کا حکم دیا اور سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کردی۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا