اسلام آباد میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان نے احتجاج کے دوران پرتشدد رویہ اپنایا اور مسلح جتھوں نے فائرنگ کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹی ایل پی کے عہدیداروں کے علاوہ کسی بھی مدرسے یا عالم دین کے خلاف کارروائی نہ کی گئی ہے اور نہ ہی کی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات ان کے نکلنے سے لے کر آخری لمحات تک جاری رہے، اور سرکاری ٹیم نے بار بار انھیں واپس جانے کا کہا۔ محسن نقوی نے الزام لگایا کہ ان کی شرائط مسلسل بدلتی رہیں اور ان کے مطالبات فلسطین کے بجائے کچھ مخصوص افراد کی رہائی سے متعلق تھے۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ پولیس اور فورسز نے صرف ان افراد کے خلاف کارروائی کی جو اسلحہ لیے ہوئے تھے اور فائرنگ کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلح جتھوں نے گھروں اور مساجد کے میناروں سے براہ راست فائرنگ کی جس کے باوجود افواج نے ذمہ داری سے آپریشن مکمل کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر دو ہفتے بعد احتجاج کے پیچھے کوئی نہ کوئی سازش ہے، اور وقت کے ساتھ اس کا لنک سامنے آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج کا حق تسلیم شدہ ہے لیکن اسلحہ اٹھا کر عوام اور املاک کو نقصان پہنچانا برداشت نہیں کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے یقین دہانی کرائی کہ جمعہ کے روز علمائے کرام اور مدارس فلسطین کے حق میں اظہارِ تشکر کریں گے اور کوئی کارروائی اُن پر نہیں ہوگی۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا کہ احتجاج کے نام پر تشدد کیا گیا حالانکہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر فلسطین کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں فلسطین کے لیے پرامن احتجاج کیے گئے لیکن یہاں جدید ہتھیاروں اور خنجروں کے ساتھ لوگ نکلے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین نے سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور ایک پولیس انسپکٹر کو 21 گولیاں مار کر شہید کیا۔ عطااللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے بھی غزہ کے لیے جلسے کیے لیکن پرامن طریقے سے۔






