یورپی یونین نے فضائی حدود کے تحفظ اور دفاعی خودمختاری کے لیے ایک بڑے منصوبے پر غور شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کو “یورپی ڈرون ڈیفنس انیشی ایٹو” کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت مشرقی سرحدوں پر “ڈرون وال” تعمیر کرنے کا تصور شامل ہے۔
یہ منصوبہ جمعرات کو جاری کی گئی دفاعی روڈ میپ کا حصہ ہے۔ مقصد ہے کہ 2026 کے آخر تک ابتدائی نظام فعال کیا جائے اور 2027 تک یہ مکمل طور پر آپریشنل ہو جائے۔
ڈرون وال کا منصوبہ روسی ڈرونز کی یورپی فضائی حدود میں مسلسل مداخلت کے باعث بنایا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ پولینڈ، ڈنمارک، ایسٹونیا اور جرمنی سمیت کئی نیٹو ممالک نے روس پر فضائی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے تھے۔
یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کسی ممکنہ روسی خطرے سے نمٹنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ کمیشن کی صدر اُرسلا فان ڈیر لاین نے کہا کہ مشرقی سرحدوں پر ڈرون وال ضروری ہے تاکہ فضائی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔
یورپی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے وضاحت کی کہ یہ نیٹو کی جگہ نہیں لے رہا بلکہ اس کی تکمیل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپنی سلامتی کی ذمہ داری یورپ کو خود بھی لینی ہوگی۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے کہا کہ نیٹو ایسے مربوط نظام کی آزمائش کر رہا ہے جو ڈرون سمیت ہر فضائی خطرے کی نشاندہی، نگرانی اور اسے ناکارہ بنا سکے۔
روسی حکام نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغربی ممالک جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے کشیدگی بڑھا رہے ہیں۔ روسی فیڈرل سیکیورٹی چیف کے مطابق یہ اقدامات نیٹو کی منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔






