لاہور: تنظیماتِ اہلِ سنت پاکستان کے قائدین نے تحریکِ لبیک کے کارکنان کی فوری رہائی اور سیل کی گئی مساجد و مدارس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
لاہور میں پیر آف مانکی شریف پیرزادہ محمد امین قادری کی صدارت میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سانحہ مریدکے کے پس منظر پر عدالتی کمیشن کے قیام اور گرفتار شدگان کی رہائی پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں اہلِ سنت کی مساجد و مدارس پر حملوں اور نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی گئی جبکہ شرکا نے مینارٹی ایکٹ 2025 اور نیشنل کمیشن فار مینارٹیز کو مسترد کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ تحریکِ لبیک اور تنظیماتِ اہلِ سنت کے بے گناہ قائدین و کارکنان کو فوری رہا کیا جائے اور ریاستی کارروائیوں کو جواز بنا کر مساجد، مدارس اور خانقاہوں کو بند کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
اعلامیے میں حکومت سے اپیل کی گئی کہ اگر وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے تو اہلِ سنت کے حقیقی نمائندوں سے براہِ راست رابطہ کرے اور سیل کی گئی عبادت گاہوں کو فوراً کھولا جائے۔
تنظیمات نے داخلی انتشار ختم کرنے کے لیے فتنۓ الخوارج اور فتنۓ الہند کے خلاف آپریشن سے پیدا شدہ مسائل حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور مرکزی شوریٰ کا اجلاس 25 اکتوبر کو لاہور میں بلانے کا اعلان کیا گیا۔





