حماس نے امریکی محکمہ خارجہ کے اُس بیان کو مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تنظیم جلد ہی اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدہ توڑنے والی ہے۔ امریکا نے اپنے اتحادیوں کو بتایا تھا کہ اسے “قابلِ اعتماد اطلاعات” ملی ہیں جن کے مطابق حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ ساتھ ہی واشنگٹن نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ غزہ کے عوام کے تحفظ اور جنگ بندی کے تسلسل کے لیے اقدامات کرے گا۔
حماس نے ان خدشات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر مکمل طور پر عمل کر رہی ہے۔ تنظیم نے کہا کہ امریکا کا مؤقف دراصل اسرائیلی بیانیے کی حمایت کے مترادف ہے۔
یہ ردِعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ بندی کے باوجود غزہ میں صورتحال اب بھی کشیدہ ہے اور عالمی برادری دونوں فریقوں پر امن معاہدے کی پابندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔






