اسرائیل نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں امدادی سامان کے داخلے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق حکومت نے فوج کو حکم دیا ہے کہ تاحکمِ ثانی غزہ میں کسی بھی قسم کی امداد نہ جانے دی جائے۔
اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام حماس کی جانب سے جنگ بندی سمجھوتے کی خلاف ورزی کے باعث کیا گیا ہے۔
اس پابندی سے قبل غزہ کے مختلف علاقوں میں شدید فضائی حملے کیے گئے جن میں کم از کم 20 فلسطینی شہید ہوئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حماس نے اتوار کی صبح جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی، جس کے جواب میں جنوبی غزہ میں درجنوں اہداف پر فضائی کارروائیاں کی گئیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی تھی، جس کے بعد دو سالہ لڑائی رکی تھی۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق جنوبی غزہ کے خان یونس کے مشرقی علاقوں، جن میں عبسان اور الزنہ شامل ہیں، پر توپ خانے سے بھی گولہ باری کی گئی۔






