ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ اگر حماس نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو مشرقِ وسطیٰ کے “بہت عظیم” اتحادی ممالک غزہ میں بڑی فوجی قوت کے ساتھ داخل ہو کر حماس کو کچل دیں گے۔
انہوں نے لکھا کہ کئی اتحادیوں نے “بڑی جوش و خروش” انہیں فون کر کے غزہ میں داخل ہونے کی آمادگی ظاہر کی، مگر ٹرمپ نے کہا کہ ابھی ہے کہ حماس درست راستہ اپنائے، ورنہ خاتمہ “فاسٹ، فیوریئَس اور بُرال” ہوگا۔
ٹرمپ نے اتحادی ممالک کا شکریہ ادا کیا اور خاص طور پر انڈونیشیا کا ذکر کیا جس نے مبینہ طور پر فوجی شمولیت کا اعلان یا آمادگی ظاہر کی ہے؛ اس حوالے سے امریکی حکام اور دیگر رپورٹس نے بھی بات کی ہے کہ بین الاقوامی فورس یا شراکت دار ملکوں کے کردار پر بات چل رہی ہے۔
اگر چاہیں تو میں اس بیان کی عالمی ردِعمل، سفارتی مضمرات یا مختلف خبر رساں اداروں کی تفصیلی کوریج (مختصر نکات میں) بھی دے دوں۔






