فرانس کے سابق صدر نکولس سارکوزی کو لیبیا سے انتخابی مہم کے فنڈز اکٹھا کرنے کی سازش کے الزام میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
ستر سالہ سابق قدامت پسند رہنما اپنی اہلیہ کارلا برونی کے ہمراہ اپنے گھر سے جیل کے لیے روانہ ہوئے، جہاں ان کے حامیوں نے “نکولس، نکولس” کے نعرے لگائے اور فرانسیسی قومی ترانہ گایا۔
سارکوزی، جنہیں گزشتہ ماہ سزا سنائی گئی تھی، دوسری جنگِ عظیم کے بعد جیل جانے والے پہلے سابق فرانسیسی رہنما بن گئے ہیں۔
جیل پہنچنے کے فوراً بعد، سارکوزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں کہا کہ وہ “انتقام اور نفرت” کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “آج قید ہونے والا کوئی سابق صدر نہیں بلکہ ایک بے گناہ شخص ہے۔”
یہ فیصلہ کئی سالوں تک جاری رہنے والی قانونی کارروائی کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان کی 2007 کی صدارتی مہم نے لیبیا کے رہنما معمر قذافی سے لاکھوں یورو نقد حاصل کیے تھے۔
اگرچہ عدالت نے قرار دیا کہ سارکوزی نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر فنڈنگ اسکیم ترتیب دینے کی سازش کی، تاہم انہیں ذاتی طور پر رقم وصول کرنے یا استعمال کرنے سے بری کردیا گیا۔ انہوں نے مسلسل اپنی بے گناہی پر زور دیا ہے اور مقدمے کو سیاسی طور پر جانبدار قرار دیا ہے۔
ان کے وکلا نے رہائی کی درخواست دائر کر دی ہے، جس پر ایک ماہ کے اندر سماعت متوقع ہے۔ امکان ہے کہ وہ کرسمس تک رہا ہو جائیں گے۔
سارکوزی کو لا سانتے جیل کے ایک علیحدہ یونٹ میں رکھا گیا ہے، جہاں قیدی سنگل سیل میں رہتے ہیں اور سیکیورٹی وجوہات کے تحت علیحدہ سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔
ان کے جیل خانے میں شاور، لینڈ لائن فون اور ٹی وی کی سہولت موجود ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھ تین کتابیں رکھی ہیں، جن میں “دی کاؤنٹ آف مونٹی کرسٹو” بھی شامل ہے — ایک ایسے شخص کی کہانی جو ناحق قید کے بعد اپنے دشمنوں سے انتقام لیتا ہے۔
سابق صدر کو جیل بھیجنے کے فیصلے نے ان کے سیاسی حامیوں میں غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ ان کے حامیوں نے اسے عدالتی نظام کی جانب سے “سیاسی انتقام” قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ فرانس میں وائٹ کالر جرائم کے خلاف سخت موقف کی عکاسی کرتا ہے، کیونکہ ماضی میں سیاست دان اکثر قید سے بچ نکلنے میں کامیاب رہتے تھے۔
اگرچہ ان کی سیاسی ساکھ کو دھچکا پہنچا ہے، تاہم دائیں بازو کے حلقوں میں ان کا اثر و رسوخ بدستور برقرار ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے جیل جانے سے قبل سارکوزی سے ملاقات کی تھی، جب کہ وزیر انصاف جیرالڈ ڈارمینن بھی ان سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔






