اسرائیل امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں ختم کرے، عالمی عدالت انصاف

0
443

عالمی عدالت انصاف نے اپنی مشاورتی رائے میں قرار دیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کے اداروں، خصوصاً کے ذریعے غزہ کے فلسطینیوں تک امداد پہنچانا اسرائیل کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے کہا کہ اسرائیل کو امدادی اداروں کے ساتھ تعاون بڑھانا اور امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں ختم کرنا ہوں گی۔

عدالت کے مطابق اسرائیل یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ کے ملازمین بڑی تعداد میں حماس سے وابستہ ہیں۔ فیصلہ میں کہا گیا کہ غزہ میں خوراک کی کمی اور امداد کی بندش بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ممنوع ہے۔

اگرچہ یہ مشاورتی رائے قانونی طور پر نافذالعمل نہیں، تاہم اس کے اثرات اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ اور آئندہ سفارتی و قانونی پوزیشن پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

عدالت کی معاون صدر جج جولیا سیبوتنڈے نے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ رائے غیر متوازن ہے اور اسرائیل کے مؤقف کو مناسب طور پر نہیں سنا گیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مذاکراتی عمل کو مزید مشکل بنا سکتا ہے۔

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا