پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کارکن تیار رہیں، جن لوگوں نے ظلم و جبر کیا ہے انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے چارسدہ کی عوام سے خطاب میں کہا کہ اس علاقے سے ایک سیاسی جماعت کا خاتمہ ممکن ہوا اور یہاں کے عوام بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب سے ان کا نام وزیراعلیٰ کے لیے آیا تو مخالفت کی گئی، مگر ان کی فکر عوام ہیں اور وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کی آنکھوں میں انقلاب کی چمک ہے اور تبدیلی آچکی ہے۔
سہیل آفریدی نے بتایا کہ کچھ لوگ انہیں سیاہ پروپیگنڈا کے ذریعے ڈرانے کی کوشش کر رہے تھے اور پریس کانفرنس کے ذریعے انہیں دہشت گرد قرار دینے کی کوششیں ہوئیں، مگر وہ عوامی حمایت کے باعث خود پُراعتماد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور بیوروکریسی میں وہی پالیسیاں اپنائیں جائیں گی جو بانی چیئرمین کے وژن کے مطابق ہوں۔
وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے بانی چیئرمین سے ملاقات کی کوشش کی، تاہم عدالت کے فیصلے نے انہیں ملاقات سے روکا۔ انہوں نے کہا کہ فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ سڑک پر ہوں گے اور جلد پارٹی کی طرف سے عملی ہدایات جاری کی جائیں گی۔
انہوں نے اخطار کیا کہ کچھ حلقے انہیں اور ان کے حامیوں کو خطرے کی تنبیہ کر رہے تھے کہ چارسدہ، خیبر اور کرک نہ جائیں، تاہم ان کا مؤقف تھا کہ ظلم و جبر کرنے والوں کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی اور انصاف یقینی بنایا جائے گا۔






