اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے اور کم سن بچیوں کے اغوا میں ملوث ہونے کے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے حکم دیا کہ ڈائریکٹر کرائمز ایف آئی اے کی سربراہی میں خصوصی جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔
عدالت میں بتایا گیا کہ لاہور اور بہاولپور سے کم سن بچیوں اور ان کی والدہ کے اغوا کے بعد اسی فیملی کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ جسٹس نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب خاتون ہیں اور انہیں متاثرہ خاتون اور بچیوں کے اغوا کا معاملہ دیکھنا چاہیے۔
ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو متاثرہ خاتون کا بیان قلمبند کرنے اور رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس اس کیس کی تفتیش نہیں کرے گی کیونکہ اصل الزام پنجاب پولیس پر ہے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ویڈیو میں واضح ہے کہ تین بچیوں اور والدہ کو اغوا کیا گیا، جعلی مقابلے کے بعد بچیوں کو چائلڈ پروٹیکشن سنٹر بھیجا گیا۔
وکیل درخواست گزار لطیف کھوسہ نے آئی جی اسلام آباد کے بیان پر عدم اعتماد ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس صرف کور کرے گی اور کوئی حقیقی کارروائی نہیں کرے گی۔
عدالت نے سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے اور ایس ایس پی آپریشنز کے دفتر میں کل میٹنگ کرنے کی ہدایت دی۔






