اقوامِ متحدہ کی مائیگریشن ایجنسی کے مطابق منگل کے روز لیبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی ایک لکڑی کی کشتی الٹنے سے 18 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ پاکستانیوں سمیت 64 افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ کشتی روانگی کے چند گھنٹوں بعد ہی اونچی لہروں کی وجہ سے الٹ گئی۔ یہ حادثہ لیبیا کے ساحلی علاقے سورمن کے قریب پیش آیا۔
بیان کے مطابق زندہ بچ جانے والوں میں سوڈان کے 29 مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ، بنگلہ دیش کے 18 مرد، پاکستان کے 12 شہری اور صومالیہ کے تین افراد شامل ہیں۔ تاحال ہلاک افراد کی شہریت کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
آئی او ایم نے کہا ہے کہ یہ حادثہ ایک سنگین ہے کہ محفوظ مستقبل کی تلاش میں لوگ کس قدر خطرناک سمندری راستوں کا انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ شمالی افریقہ سے یورپ کی جانب جانے والا وسطی بحیرہ روم کا راستہ اب بھی دنیا کی سب سے خطرناک اور مہلک ہجرت گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
ایجنسی کے Missing Migrants Project کے مطابق رواں سال اب تک اس راستے پر 1,046 افراد ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں، جن میں 527 واقعات لیبیا کے ساحل کے قریب پیش آئے۔
یہ سانحہ ایسے وقت میں پیش آیا جب گزشتہ ہفتے تیونس کے قریب ایک اور بحری حادثے میں تقریباً 40 تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔
IOM نے کہا کہ وہ مقامی اداروں کے ساتھ مل کر بچ جانے والے افراد کو طبی امداد اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کر رہا ہے، اور اس نے زور دیا ہے کہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔






